✕
دنیا

غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملے، 4 افراد شہید، حماس کے جنگجو کی گرفتاری کا دعویٰ

  • امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی کارروائی، فضائی حملوں میں 2 بچوں سمیت 3 فلسطینی شہید؛ تنازع برقرار
شائع اپ ڈیٹ

غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ منگل کے روز غزہ سٹی میں حماس کے ایک جنگجو کو حراست میں لینے کے لیے اسرائیلی حمایت یافتہ کارروائی کے دوران اسرائیلی فورسز کی موجودگی کا پتا چل گیا، جس کے بعد انہیں پسپائی میں کور فراہم کرنے کے لیے فضائی حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں کم از کم تین فلسطینی، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، شہید ہوگئے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے ایک سینئر جنگجو کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ حماس کے عہدیدار اسماعیل الثوابۃ نے کہا ہے کہ اسرائیلی اسپیشل فورس نے غزہ سٹی میں کارروائی کی کوشش کی، تاہم اس کا بروقت پتا چل گیا۔

غزہ حکومت کے میڈیا دفتر کے ڈائریکٹر الثوابۃ کے مطابق اس کے بعد اسرائیل نے شدید فضائی حملے کیے، جن میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے۔

ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ حراست میں لیا گیا شخص حماس کے داخلی سکیورٹی ادارے کا سربراہ ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ممکنہ طور پر اسرائیل کی حمایت یافتہ ایک ملیشیا کے ارکان نے کی، جو غزہ کے اندر اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں سے کارروائیاں کرتی ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ سٹی کے مغربی علاقے کتیبہ کے قریب کم از کم 12 میزائل داغے۔ یہ علاقہ بے گھر فلسطینی خاندانوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔

طبی ذرائع کے مطابق بمباری کے نتیجے میں کم از کم تین افراد، جن میں دو بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، شہید جبکہ کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ دو گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو تباہ ہوکر ڈھانچوں میں تبدیل ہوگئیں۔ طبی ذرائع نے بتایا کہ وسطی غزہ میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک اور بچہ بھی شہید ہوا۔

اسرائیلی فوج نے منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا تاکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کو لاحق خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حماس کے جنگجو کی گرفتاری کی کارروائی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی گرفتار کیے گئے شخص کی شناخت ظاہر کی۔

شمالی غزہ کی سرحد کے قریب نتِیو ہااسارا بستی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کاٹز نے کہا، ’’یہ ہماری پالیسی ہے: ہم خطرات کا انتظار نہیں کرتے بلکہ حماس کے دہشت گردوں کا تعاقب کرتے، انہیں ناکام بناتے اور ان کے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرتے ہیں۔‘‘

ایک الگ واقعے میں طبی ذرائع نے بتایا کہ وسطی غزہ کے دیر البلح کے مشرق میں تعینات اسرائیلی فورسز نے علاقے میں فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک لڑکی، اسراء الحِسّی، شہید جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

جنگ بندی حملے روکنے میں ناکام

اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والی امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی نے غزہ کی پٹی کو تباہ کرنے والی بڑے پیمانے کی لڑائی تو روک دی، تاہم اسرائیلی حملوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوسکا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد حماس اور دیگر فلسطینی جنگجو گروپوں کے حملوں کی روک تھام ہے۔

حماس کا الزام ہے کہ اسرائیل بارہا جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ وسیع تر منصوبے پر پیش رفت کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔ اس منصوبے میں غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کا مزید انخلا اور حماس کو غیر مسلح کرنا شامل ہے۔

غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق گزشتہ اکتوبر جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے غزہ میں 1,300 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران جنگجوؤں کے حملوں میں اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔