امریکا، ایران کشیدگی سے تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ، قیمتیں تقریباً 2 فیصد بڑھ گئیں
- برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.72 ڈالر یعنی 1.9 فیصد اضافے سے 92.21 ڈالر فی بیرل ہوگئی
امریکا اور ایران کے درمیان منگل کے روز مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں دنیا کے اہم خام تیل پیدا کرنے والے خطے سے رسد میں خلل کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.72 ڈالر یعنی 1.9 فیصد اضافے سے 92.21 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو 1046 جی ایم ٹی پر ریکارڈ کی گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.12 ڈالر یعنی 2.47 فیصد اضافے سے 87.88 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید حملوں کی دھمکی دی تھی۔ یہ دھمکی جولائی کے اواخر کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست حملوں کے پہلے تبادلے کے بعد سامنے آئی، جس سے اس تنازع میں کشیدگی مزید بڑھ گئی جو حال ہی میں اقتصادی محاذ آرائی کی شکل اختیار کر گیا تھا۔
پی وی ایم کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان میزائل حملوں کے جواباً تبادلے سے ان لوگوں کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ اگرچہ یہ ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ‘ نہ بھی ہو، تاہم یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔‘‘
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو کہا کہ اگر امریکا جون میں طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر واپس آتا ہے تو ایران فوری طور پر اس کا جواب دے گا۔
قطر اور عمان سمیت ثالث ممالک کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری کوششیں تاحال بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے قبل فروری کے اواخر میں اس بحری راستے سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی عالمی رسد گزرتی تھی۔
سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہانسن نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں طویل تعطل کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مزید خریداری نہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کا اندازہ ہے کہ تیل کی رسد موجودہ سطح سے زیادہ متاثر نہیں ہوگی۔
پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے سعودی عرب کا تیل لے جانے والے دو سپر ٹینکرز کو چند منٹ کے وقفے سے نامعلوم سمت سے داغے گئے گولوں کا نشانہ بنایا گیا۔
شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی کلیپر کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نمایاں کمرشل بحری جہازوں کی تعداد تقریباً پانچ یومیہ رہی، جو 10 روزہ اوسط تقریباً 14 جہازوں کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ ان پانچ جہازوں میں سے کوئی بھی مائع ایندھن لے جانے والا ٹینکر نہیں تھا۔
کمرز بینک کے تجزیہ کاروں نے لکھا، ’’گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کے لیے دوبارہ کھولے جانے کی جو امید پیدا ہوئی تھی، اسے شدید دھچکا پہنچا ہے۔ یہ سوال بھی موجود ہے کہ اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو کیا آبنائے سے غیر سرکاری طور پر جاری بحری آمدورفت بلا رکاوٹ جاری رہ سکے گی۔‘‘
رائٹرز کی جانب سے اگست میں کیے گئے تجزیہ کاروں کے سروے کے مطابق 2026 میں تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کی توقع ہے، کیونکہ بحری نقل و حمل میں رکاوٹیں برقرار رہنے کا امکان ہے۔