سیلاب: نیپال اور چین میں ہلاکتیں بڑھ گئیں، ایک ہزار سے زائد افراد لاپتا
- تباہ کن سیلاب کے بعد نیپال اور تبت میں ایک ہزار سے زائد افراد گمشدہ ہیں، امدادی کارکن متاثرہ وادیوں میں تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں
نیپال میں امدادی کارکنوں نے جمعرات کو ملبے سے بھرے وادیوں اور پہاڑی ڈھلوانوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھی، جبکہ ہمالیائی ملک نیپال اور پڑوسی چین میں ایک ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب برف، کیچڑ اور چٹانوں کا ایک بڑا تودہ پہاڑی دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں تباہ کن اچانک سیلاب آیا۔
نیپال کے حکام نے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور بدھ کو آنے والی تباہی کے بعد شہروں اور وادیوں میں پھنسے ہزاروں افراد تک ہنگامی سامان پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹرز کا استعمال کیا۔ اس تباہی سے کھٹمنڈو کو تبت کے شہر لہاسا سے ملانے والی وہ سڑک بھی متاثر ہوئی جہاں بڑی تعداد میں سیاح اور زائرین موجود تھے۔
پولیس نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد 270 سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے، جبکہ درجنوں لاشیں دریائے بہاؤ کے ساتھ میدانی علاقوں تک پہنچ گئی ہیں جہاں سے انہیں نکالا جا رہا ہے۔
نیپال کے وزیر داخلہ سدھان گرونگ نے کہا کہ امدادی کارروائیوں کی ترجیح زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنا ہے۔ امدادی ٹیموں نے تریشولی کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے میں 100 لاپتا بھارتی شہریوں، جن میں زیادہ تر زائرین ہیں، اور 25 چینی کارکنوں کا سراغ لگا لیا ہے۔ 650 سے زائد غیر ملکی تاحال لاپتا ہیں، جبکہ نیپالی حکام ابھی مقامی لاپتا افراد کی تعداد کا تعین نہیں کر سکے۔
68 سالہ کیشو پرساد بارال، جو ایک نیپالی اسپتال میں زیر علاج ہیں، نے بتایا کہ کیچڑ کا ایک بہت بڑا ریلا سیدھا ہماری طرف آ رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ریلا قریب آتا گیا، اس کی سطح بلند ہوتی گئی۔ جب انہوں نے اسے اپنے گھر میں داخل ہوتے دیکھا تو بیوی کا ہاتھ پکڑ کر اسے چھت پر لے جانے کی کوشش کی، تاہم وہ کیچڑ کے ریلے میں بہہ گئیں۔
چار گھنٹے بعد ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ بارال نے کہا کہ میری بیوی اب بھی کہیں کیچڑ کے نیچے ہے۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے ضلع گییرونگ میں لاپتا افراد کی تعداد 558 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ چین نے ہلاکتوں کی تعداد تین بتائی ہے۔
دونوں علاقوں میں لاپتا غیر ملکیوں کا تعلق دو درجن سے زائد ممالک سے ہے، جن میں بھارت کے مزید 288، امریکا کے 63، ملائیشیا کے 51، آسٹریلیا کے 34، برطانیہ کے 33 اور کینیڈا کے 25 شہری شامل ہیں۔
میدانی علاقوں سے لاشیں برآمد
چین نے کہا ہے کہ وہ تلاش اور امدادی کارروائیوں کے حوالے سے نیپال کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق متاثرہ علاقے میں سرحد پار نیپال میں تقریباً 100 چینی شہری موجود ہیں۔
چین کے وزیراعظم لی چیانگ، جو ملک کے دوسرے اعلیٰ ترین عہدیدار ہیں، جمعرات کی سہ پہر آفت سے متاثرہ گییرونگ پہنچے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق ان کا یہ دورہ اچانک تھا اور پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ اس تباہی کو اعلیٰ ترین قومی ترجیح دے رہا ہے۔
تصدیق شدہ ویڈیوز میں گییرونگ میں سرحدی گزرگاہ پر پانی اور ملبے کے تیز بہاؤ کو درجنوں افراد کو بہاتے دیکھا گیا، جبکہ نیپال میں مکانات، سڑکیں اور بجلی کے منصوبے بھی سیلابی ریلے کی زد میں آ کر تباہ ہوگئے۔
ضلع چتوان کے منتظم گنیش آریال نے بتایا کہ حکام نے ان کے ضلع کے دریائی نظام سے 103 لاشیں برآمد کی ہیں۔ یہ علاقہ بدترین متاثرہ تریشولی سے تقریباً 100 کلومیٹر دور میدانی علاقے میں واقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی اسپتال تمام لاشوں کو رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس لیے ضلعی انتظامیہ خیمے قائم کر رہی ہے اور ان خاندانوں کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں جو اپنے جاں بحق عزیزوں کی لاشیں لینے پہنچیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکے گی، ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے جائیں گے۔
نیپالی فوج کے ترجمان راجا رام بسنیٹ کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے فراہم کردہ خیمے، خوراک اور دیگر امدادی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 5,000 سے زائد فوجی اور پولیس اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور جمعرات کو 125 افراد کو ریسکیو کیا گیا، جن میں 20 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ بدترین متاثرہ اضلاع میں شامل نواکوٹ میں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سڑک کے راستے روانہ ہوئے۔
یہ آفت پانچ ماہ پرانی شاہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے پاس ایسے سانحات سے نمٹنے کا تجربہ رکھنے والے ادارے اور اہلکار موجود ہیں، جن میں 2015 کے زلزلے سے نمٹنے کا تجربہ بھی شامل ہے، جس میں تقریباً 9,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بند جھیل سے مزید خطرہ
ابتدائی اطلاعات میں نیپالی حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ علاقے میں آنے والے زلزلے کے باعث گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹا اور سیلاب آیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ابتدائی طور پر 4.4 شدت کا بتایا جانے والا زلزلہ دراصل برفانی چٹان اور برف کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی زلزلہ نما توانائی تھی، جس کے بعد ملبے کا بہاؤ شروع ہوا۔
چینی حکام نے گییرونگ میں ایک ایسی جھیل سے لاحق خطرے کی نشاندہی کی ہے جو مٹی کے تودے اور سیلاب سے متاثرہ تبت-نیپال سرحدی گزرگاہ کے بالائی علاقے میں موجود ہے۔ سی سی ٹی وی کے مطابق اس صورتحال سے امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہو سکتی ہیں، خصوصاً اس لیے کہ بارش کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
چینی سرکاری میڈیا نے وزارت آبی وسائل کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات کی صبح اس بند جھیل میں پانی کا حجم تقریباً 20 لاکھ مکعب میٹر تھا اور پانی پہلے ہی اس کے کناروں سے بہہ رہا تھا۔
وزارت کے مطابق آئندہ تین روز کے دوران مزید 30 لاکھ مکعب میٹر پانی جھیل میں داخل ہونے کا امکان ہے، جس سے جھیل کے بند ٹوٹنے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
گزشتہ جولائی میں تبت کے پیورپا گلیشیئر پر واقع ایک جھیل کا پانی اچانک خارج ہونے سے نیپال میں تباہ کن سیلاب آیا تھا۔ رواں ہفتے کے سیلاب میں متاثر ہونے والے متعدد افراد کیلاش مانسروور جانے والے زائرین تھے، جو تبت میں واقع بلند مقام ہے اور ہندوؤں اور بدھ مت کے پیروکاروں سمیت کئی مذاہب میں مقدس سمجھا جاتا ہے۔
ماؤنٹ کیلاش، جسے ہندوؤں کے مطابق بھگوان شیو کا مسکن سمجھا جاتا ہے اور جو مانسروور جھیل کے کنارے واقع ہے، بھی انتہائی مقدس مقام ہے۔
ہمالیائی سیاحتی کمپنی کے سربراہ ساگر پانڈے نے ہیلی کاپٹر سے متاثرہ علاقے کا جائزہ لینے کے بعد کہا، ’’وہاں انسانی ساختہ کوئی چیز، کوئی آبادی باقی نہیں رہی۔ سب کچھ بالکل ہموار ہو چکا ہے۔‘‘ ان کے مطابق ہوٹل، ریستوران یا گاڑی میں موجود افراد کے بچنے کا امکان نہیں۔
لاپتا افراد کے لواحقین معلومات کے لیے بے قرار
دنیا بھر میں لاپتا افراد کے رشتہ دار اپنے عزیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی ہندو زائرین کی ایک جماعت میں شامل وینّیلا کی بہن واسنتھی منیاندی نے بتایا کہ وینّیلا کے نیپال سے تبت میں داخل ہونے کے بعد ان سے آخری بار رابطہ ہوا تھا۔
واسنتھی نے کہا کہ میں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہوں۔ میری بہن میرے لیے بہت اہم ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ واپس آ جائے۔ میرے پاس اس کے سوا کوئی نہیں۔ میں صرف چاہتی ہوں کہ وہ گھر واپس آئے اور محفوظ ہو۔
چینی جانب سے سرحد پر نصب سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں متعدد افراد کو چٹانوں، کیچڑ اور پانی کے تیز ریلے سے بھاگتے دیکھا گیا، جس نے عمارتوں اور گاڑیوں کو تباہ کر دیا۔
گییرونگ سرحدی بندرگاہ چین کو جنوبی ایشیا سے ملانے والے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران یہاں وسیع ترقیاتی منصوبوں کے تحت لاجسٹکس پارکس، یارڈز اور پارکنگ لاٹس تعمیر کیے گئے ہیں۔
مختلف ممالک اور عالمی اداروں نے فوری طور پر امداد فراہم کرنے یا اس کا وعدہ کیا ہے۔ بھارت، امریکا، کینیڈا اور اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ امداد فراہم کر رہے ہیں اور صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی ٹیمیں متاثرہ آبادیوں کی مدد کے لیے امدادی سامان اور عملہ بھیج رہی ہیں۔