چین اور انڈونیشیا کے وزرائے دفاع اور خارجہ کی ملاقات، سکیورٹی اور معاشی امور پر مذاکرات
- چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دو سال میں پہلی بار جکارتہ کا دورہ کیا ہے
چین اور انڈونیشیا کے وزرائے دفاع اور خارجہ نے جمعہ کو اپنے انڈونیشی ہم منصبوں سے ملاقات کی، جس میں سکیورٹی، سیاسی اور معاشی امور پر بات چیت متوقع ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جکارتہ تجارتی تنازعات اور بحیرہ جنوبی چین میں کشیدگی کے دوران چین اور امریکا دونوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دو سال میں پہلی بار جکارتہ کا دورہ کرتے ہوئے اپنے انڈونیشی ہم منصب سوگیونو سے ملاقات کی۔ بعد ازاں وہ دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے ہمراہ ٹو پلس ٹو اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔
وانگ یی نے کہا کہ پیچیدہ عالمی چیلنجز کے درمیان نئے مکالماتی نظام کے تحت ملاقات بروقت ہے اور دونوں ممالک کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یک طرفہ اقدامات اور بالادستی پر مبنی رویے عالمی تعاون اور استحکام کو شدید متاثر کرتے ہیں۔
چینی وزیر دفاع ڈونگ جون نے انڈونیشیا کی وزارت دفاع پہنچنے پر کہا کہ دونوں ممالک کی افواج اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے تعاون کرسکتی ہیں۔
انڈونیشی وزیر دفاع سجافری سجّموسودین نے کہا کہ دونوں افواج کے درمیان دفاعی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، جن میں مشترکہ مشقیں، افسران کا تبادلہ اور دفاعی صنعت میں شراکت داری شامل ہے۔
دفاعی تجزیہ کار کیوری مہارانی نے کہا کہ انڈونیشیا نے اس فوجی مشق سے یہ اہم سبق حاصل کیا کہ بڑی طاقتیں دفاعی سفارت کاری کو اثر و رسوخ بڑھانے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
دریں اثنا چین انڈونیشیا میں ایک بڑا سرمایہ کار بھی ہے۔ انڈونیشی اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں چینی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 3.9 ارب ڈالر رہی۔ تاہم بعض سرمایہ کاری سے متعلق سخت ضوابط دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کا باعث بن رہے ہیں۔