✕
پاکستان

وزیر خزانہ نے سینیٹ میں قرضوں کی تازہ ترین صورتحال پیش کردی

  • قرض کی تفصیلات کے مطابق 81.37 ٹریلین روپے کے مجموعی قرض میں ملکی قرض 55.36 ٹریلین روپے، بیرونی قرض 23.16 ٹریلین روپے جبکہ آئی ایم ایف کا قرض 2.74 ٹریلین روپے تھا۔
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کا مجموعی قرض، جس میں ملکی قرض، بیرونی قرض اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا قرض شامل ہے، گزشتہ سال دسمبر تک 81.37 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے جمعرات کو سینیٹ کو آگاہ کیا۔

قرض کی تفصیلات کے مطابق 81.37 ٹریلین روپے کے مجموعی قرض میں ملکی قرض 55.36 ٹریلین روپے، بیرونی قرض 23.16 ٹریلین روپے جبکہ آئی ایم ایف کا قرض 2.74 ٹریلین روپے تھا۔ یہ تفصیلات وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں سامنے آئیں۔

یہ تحریری جواب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر طلحہ محمود کے سوال پر دیا گیا، جنہوں نے وزیر خزانہ سے پاکستان پر موجود ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی موجودہ مالیت، گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان کی جانب سے ادا کیے گئے مذکورہ قرضوں کی سال وار تفصیلات اور انہی قرضوں پر گزشتہ پانچ سال کے دوران ادا کیے گئے مارک اپ کی سال وار تفصیلات طلب کی تھیں۔

وزیر خزانہ کے تحریری جواب کے مطابق بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مالیت مالی سال 2021-22 میں 15.59 ٹریلین روپے، مالی سال 2022-23 میں 21.36 ٹریلین روپے، مالی سال 2023-24 میں 27.16 ٹریلین روپے، مالی سال 2024-25 میں 25.53 ٹریلین روپے، مالی سال 2025-26 میں 24.85 ٹریلین روپے جبکہ مالی سال 2026-27 کے جولائی تا دسمبر کے دوران 13.80 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی۔

وزیر خزانہ کے جواب میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان کی جانب سے مجموعی بیرونی اور ملکی قرضوں پر ادا کیے گئے مارک اپ کی مالیت مالی سال 2021-22 میں 2.75 ٹریلین روپے، مالی سال 2022-23 میں 3.18 ٹریلین روپے، مالی سال 2023-24 میں 5.69 ٹریلین روپے، مالی سال 2024-25 میں 8.16 ٹریلین روپے، مالی سال 2025-26 میں 8.88 ٹریلین روپے جبکہ مالی سال 2026-27 کے جولائی تا دسمبر کے دوران 3.56 ٹریلین روپے رہی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026