جیرڈ کشنر کا آئندہ ہفتے غزہ مذاکرات کیلئے اسرائیل کا دورہ متوقع
- اکتوبر میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 1,250 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر آئندہ ہفتے غزہ کے معاملے پر مذاکرات کے لیے اسرائیل کا دورہ کرسکتے ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق ان منصوبوں کی اطلاع سب سے پہلے ایکسیوس نے دی تھی جس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کشنر اگلے ہفتے قاہرہ میں مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثوں سے بھی ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ذرائع نے رائٹرز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم حماس کو غیر مسلح کرنے کے مقصد پر اسرائیل سے متفق ہیں تاہم اسرائیل نے بعض خدشات کا اظہار کیا ہے جو جائز ہیں اور ہم ان پر کام کررہے ہیں۔
ذریعے نے مزید کہا کہ کشنر کے اسرائیلی دورے کا مقصد ٹرمپ کی جانب سے 2025 کے اواخر میں غزہ کے لیے پیش کیے گئے 20 نکاتی منصوبے پر عملدرآمد کو آگے بڑھانے کی راہ تلاش کرنا ہوگا۔
ٹرمپ نے جولائی کے اواخر میں کہا تھا کہ غزہ میں فلسطینی تنظیم حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پاگیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا جس کے تحت غیر مسلح کرنے کے عمل میں پیش رفت کے ساتھ اسرائیلی فورسز غزہ سے انخلا کریں گی جبکہ ایک بین الاقوامی استحکامی فورس نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر غزہ میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں انجام دے گی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو جو اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں دوبارہ انتخاب لڑنے کے خواہاں ہیں نے ٹرمپ کے منصوبے کو کھلے عام مسترد کردیا ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس نے اس منصوبے سے اتفاق کیا ہے تاہم معاہدے پر عملدرآمد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسرائیل پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے جن میں غزہ سے انخلا اور حملے روکنا شامل ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اکتوبر میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 1,250 سے زائد فلسطینی جن میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں شہید ہوچکے ہیں جبکہ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق مسلح جنگجوؤں کے ہاتھوں چار اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
حماس عام طور پر اپنے جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری نہیں کرتی۔