آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق ایران اور امریکہ کے متضاد دعوے
- آبنائے ہرمز اسلامی جمہوریہ ایران کے انتظام و انصرام اور کنٹرول میں ہے، حسین طائب
نیم ایرانی فوجی دستے بسیج کے حال ہی میں مقرر کیے گئے سربراہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز ’’ایران کے کنٹرول اور انتظام‘‘ میں ہے۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کو اس اہم آبی گزرگاہ پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ حاصل ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق حسین طائب نے کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایک اور جنگ شروع کرکے خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مقبولیت کو متاثر کرنے کی کوشش کی، تاہم ایک بار پھر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا، باوجود اس کے کہ امریکا کا دعویٰ تھا کہ ایران کے پاس نہ فضائیہ ہے اور نہ بحریہ ہے۔
حسین طائب نے کہا کہ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز اسلامی جمہوریہ کے انتظام اور کنٹرول میں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران مکمل تحفظ کے ساتھ اپنی پالیسی پر گامزن ہے۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد تہران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز بند کردیا تھا۔ اس آبی گزرگاہ سے جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور مائع قدرتی گیس منتقل ہوتی تھی۔
بعد ازاں امریکا نے ایرانی بحری جہازوں اور بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی عائد کردی، تاہم اس کا کہنا تھا کہ وہ غیر ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے بحری جہازوں کے لیے آزادانہ آمدورفت کا تحفظ کرے گا۔
ایران کی مشترکہ فوجی کمان، خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹرز نے بھی جمعرات کو کہا کہ تہران کی اجازت کے بغیر کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر نہیں سکتا۔
سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں کمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی معمول کی آمدورفت سے متعلق امریکا کے بے بنیاد دعوے ’’جھوٹ اور غلط بیانی کے سوا کچھ نہیں‘‘۔
جون میں دونوں ممالک نے ایک عبوری معاہدہ کیا تھا، جس میں مستقل جنگ بندی کا اعلان اور خلیج میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت فوری بحال کرنے پر زور دیا گیا تھا۔
چند ہفتے بعد یہ معاہدہ اس وقت ناکام ہوگیا جب ایران نے ان بحری جہازوں پر محدود حملے دوبارہ شروع کردیے جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ معاہدے کے تحت طے شدہ انتظامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سفر کررہے تھے۔ اس کے بعد امریکا نے ایران کے جنوبی صوبوں پر دوبارہ حملے شروع کردیے۔ واشنگٹن کے مطابق ان حملوں کا مقصد خلیج میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی تہران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
دریں اثنا جمعرات کو ایران کے اعلیٰ فوجی و سیاسی عہدیدار رسول سنائی راد نے کہا کہ ایران اس وقت تک آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا جب تک دوسرا فریق عبوری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔ فارس نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ایسا اقدام نہیں جسے امریکا یکطرفہ طور پر یقینی بنا سکے۔
سنائی راد نے خبردار کیا کہ مستقبل میں کسی بھی تنازع کی صورت میں ایران زیادہ سخت ردعمل دے گا۔ ان کے بقول ’’ممکنہ آئندہ جنگ میں ہم زیادہ مضبوطی اور جارحانہ انداز میں مقابلہ کریں گے۔‘‘