پاکستان

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع زیر غور ہے، دفتر خارجہ

  • 17 اگست کو جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں ابھی چند روز باقی ہیں، اس لیے پاکستان نے معاملے کو ختم شدہ نہیں سمجھا، طاہر اندارنی
شائع اپ ڈیٹ

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع زیر غور ہے اور پاکستان کو امید ہے کہ فریقین میں مذاکرات کے لیے حقیقی آمادگی موجود ہونے کی صورت میں جنگ بندی میں توسیع ہو جائے گی۔

بدھ کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی نے کہا کہ 17 اگست کو جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں ابھی چند روز باقی ہیں، اس لیے پاکستان نے معاملے کو ختم شدہ نہیں سمجھا۔ امید ہے کہ مقررہ ڈیڈ لائن پوری نہ ہونے کی صورت میں بھی جنگ بندی میں توسیع ہوگی اور دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی جانب واپس آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مذاکرات کے لیے فریم ورک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اور پاکستان، قطر مشترکہ اعلامیے میں پہلے ہی موجود ہے۔ پاکستان خلیج اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے حل کے لیے دیگر برادر ممالک کے ساتھ مل کر مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں اضافے سے مایوس نہیں ہوتا اور نہ ہی عارضی سکون کے دوران ضرورت سے زیادہ پرامید ہوتا ہے، بلکہ تنازعات کے حل کے لیے فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے جاری رکھتا ہے۔

طاہر اندرابی نے بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور بحری نقل و حرکت، سمندری سیکیورٹی اور عالمی تجارتی جہاز رانی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان متعلقہ اتحاد کا رکن اور اس کے اعلامیے کا پابند ہے اور عالمی سپلائی چین اور بحری ٹریفک کے تحفظ کے لیے سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک کی معاونت کے لیے تیار ہے۔

ترجمان نے آزاد جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو انسانی حقوق پر بات کرنے سے پہلے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے ریکارڈ کو دیکھنا چاہیے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی 2026 کی فنانشل ٹرانسپیرنسی رپورٹ پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ان 67 ممالک میں شامل ہے جو مقررہ کم از کم معیار پر پورا نہیں اترے۔ تاہم پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام میں ہے اور 3 جائزے مکمل کر چکا ہے، جبکہ اصلاحاتی عمل کو عالمی ریٹنگ ایجنسیوں اور آئی ایم ایف کی جانب سے سراہا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ایرانی وزیر خارجہ اور اسپیکر پارلیمنٹ کو دورے کی دعوت دے رکھی ہے اور باہمی طور پر موزوں تاریخوں پر ان کے دورے متوقع ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026