✕
مارکٹس

کمزور طلب کے خدشات، امریکی ذخائر میں اضافے سے تیل کی قیمتیں گر گئیں

  • برینٹ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.20 ڈالر یا 2.47 فیصد کمی سے 86.78 ڈالر فی بیرل ہوگئی
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے رواں سال عالمی طلب میں ممکنہ کمی اور امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں اضافے کا جائزہ لیا، تاہم آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور سپلائی میں رکاوٹوں نے قیمتوں کو سہارا دیا۔

برینٹ فیوچرز کی قیمت 2.20 ڈالر یا 2.47 فیصد کمی سے 86.78 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جس سے گزشتہ چھ کاروباری سیشنز کے دوران ہونے والا اضافہ جزوی طور پر ختم ہوگیا۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی گزشتہ پانچ سیشنز میں اضافے کے بعد 2.34 ڈالر یا 2.81 فیصد کمی سے 80.93 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

امریکی مالیاتی ادارے یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونونو نے کہا کہ گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں ہونے والا بڑا اضافہ قیمتوں کے لیے دباؤ کا باعث ہے، تاہم جب تک آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل معمول سے کم رہتی ہے، قیمتوں میں مزید کمی محدود رہنے کا امکان ہے۔

انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں کمی کے باعث امریکا میں کمرشل خام تیل کے ذخائر میں جنوری 2023 کے بعد گزشتہ ہفتے کا سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ای آئی اے کے مطابق 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر 17.4 ملین بیرل بڑھ کر 424.4 ملین بیرل ہوگئے، جو 5 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

رائٹرز کے تجزیہ کاروں کے سروے میں اس کے برعکس 1.4 ملین بیرل کمی کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔

دریں اثنا، اوپیک نے اپنی ماہانہ آئل مارکیٹ رپورٹ میں 2026 کے لیے عالمی تیل کی طلب میں اضافے کی پیش گوئی کم کرکے 5 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ کردی۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) نے کہا کہ اسے رواں سال تیل کی کھپت میں 16 لاکھ بیرل یومیہ کمی کی توقع ہے، جبکہ گزشتہ ماہ اس نے 10 لاکھ بیرل یومیہ کمی کی پیش گوئی کی تھی۔ ایجنسی کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث بلند قیمتوں اور سپلائی میں رکاوٹوں نے طلب کو متاثر کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ اور بحیرۂ اسود کے خطے میں سپلائی میں رکاوٹیں بدستور تیل کی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں۔

ایران کی نیم فوجی فورس بسیج کے حال ہی میں مقرر کیے گئے سربراہ نے جمعرات کو کہا کہ آبنائے ہرمز ’’ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے‘‘۔ ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کو اس اہم آبی گزرگاہ پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ حاصل ہے۔

شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی کپلر کے مطابق بدھ کو کنٹینر بحری جہازوں کے علاوہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد کم ہوکر صرف پانچ رہ گئی، جو تین ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔

مارکیٹ میں سپلائی کی تنگی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے، صنعتی ذرائع کے مطابق اور رائٹرز کے حساب کتاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی میں روس کی سمندری راستے سے تیل کی مصنوعات کی برآمدات جون کے مقابلے میں یومیہ بنیاد پر 33.3 فیصد جبکہ گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 54.7 فیصد کم ہوکر 39 لاکھ ٹن رہ گئیں۔

ذرائع کے مطابق یوکرین کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں روس کی اہم آئل ریفائنریوں میں غیر منصوبہ بند مرمت کے باعث پیداوار اور برآمدات متاثر ہوئیں۔