کاروبار اور معیشت

پورٹ قاسم میں 150 ایکڑ پر آٹو پروسیسنگ زون قائم کیا جائے گا

  • اے آئی آر ای پارک سے سالانہ تقریباً 20 کروڑ ڈالر کا خالص زرمبادلہ سرپلس حاصل ہوسکتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے کراچی کے پورٹ قاسم پر 150 ایکڑ رقبے پر آٹوموٹیو پروسیسنگ زون قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جسے مارکیٹ کی طلب کے مطابق مرحلہ وار توسیع دی جائے گی۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

ایک بیان کے مطابق یہ فیصلہ پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ر) سید معظم الیاس اور پی کیو اے بورڈ کے ارکان پر مشتمل اجلاس میں کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد آٹو زون کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، تاکہ منصوبے کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق آگے بڑھایا جاسکے۔

مجوزہ زون میں پانچ خصوصی شعبوں کے تحت 264 آپریشنل یونٹس قائم کیے جائیں گے، جن میں 30 کمرشل یونٹس، 84 گاڑیوں کی ری فربشمنٹ ورکشاپس، 60 کار ڈسپلے یونٹس، 20 مشینری یارڈز اور آٹو اسپیئر پارٹس کے 70 یونٹس شامل ہوں گے۔

منصوبے کے تصور کے مطابق یہ سہولت پورٹ قاسم کے صنعتی کوریڈور میں قائم کی جائے گی، جہاں بندرگاہ تک براہِ راست رسائی دستیاب ہوگی۔ اس سے درآمد اور برآمد کی جانے والی گاڑیوں کے لیے اندرونِ ملک لاجسٹکس کی ضروریات کم ہوں گی۔

مجوزہ سہولت کا مقصد گاڑیوں کی درآمد، ری فربشمنٹ، نمائش اور برآمد کے لیے ایک مربوط پلیٹ فارم قائم کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت پاکستان کے آٹو موٹیو شعبے کے لیے پہلا مخصوص امپورٹ-ری فربشمنٹ-ایکسپورٹ (اے آئی آر ای) فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔

منصوبے کے منتظمین کے تخمینے کے مطابق اے آئی آر ای پارک سے سالانہ تقریباً 20 کروڑ ڈالر کا خالص زرمبادلہ سرپلس حاصل ہوسکتا ہے، جبکہ برآمدات کا تخمینہ 50 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔

اس سہولت سے آٹو موٹیو کاروبار کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے، کیونکہ کمرشل سرگرمیوں، گاڑیوں کی ری فربشمنٹ کی سہولیات، مشینری یارڈز، گاڑیوں کی نمائش اور اسپیئر پارٹس فراہم کرنے والوں کو ایک ہی بندرگاہی ماحولیاتی نظام میں یکجا کیا جائے گا۔

مجوزہ زون بحیرہ عرب کے اس بحری تجارتی راستے کے ساتھ قائم کیا جائے گا جو جنوبی ایشیا کو خلیج اور مشرقی افریقہ سے ملاتا ہے، جس سے علاقائی سطح پر گاڑیوں کی تجارت کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

پورٹ قاسم اتھارٹی کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ر) سید معظم الیاس نے کہا کہ مرحلہ وار منصوبہ بندی سے منصوبے کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق وسعت دینے میں مدد ملے گی اور یہ ملک کے دیگر علاقوں میں اسی نوعیت کے آٹو موٹیو زونز کے قیام کے لیے ایک نمونہ بن سکتا ہے۔