مارکٹس

امریکا ایران امن معاہدے پر شکوک، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

  • برینٹ خام تیل کے فیوچر 72 سینٹ یا 0.81 فیصد اضافے کے ساتھ 89.63 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں بدھ کو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر شکوک و شبہات اور دو بحری جہازوں پر حملوں نے مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا۔ تاہم امریکی خام تیل کے ذخائر میں غیر متوقع اضافے کی اطلاعات نے قیمتوں میں مزید تیزی کو محدود رکھا۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر 72 سینٹ یا 0.81 فیصد اضافے کے ساتھ 89.63 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آءی) خام تیل 71 سینٹ یا 0.85 فیصد بڑھ کر 83.91 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں عالمی بینچ مارکس منگل کو بھی ایک ڈالر سے زائد اضافے کے ساتھ بند ہوئے تھے، جو 31 جولائی کے بعد ان کی بلند ترین سطح تھی۔

منگل کو ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے الگ الگ دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری جہازوں پر حملے کیے گئے۔ ان واقعات نے عالمی توانائی منڈی میں خدشات کو مزید بڑھا دیا۔

ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے رکن محسن رضائی نے کہا کہ جب تک امریکا ایران کی جنگ بندی سے متعلق شرائط، جن میں منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور خطے میں دیگر تنازعات کا خاتمہ شامل ہے، قبول نہیں کرتا، اس وقت تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔

شپنگ ڈیٹا کے مطابق پیر کے روز آبنائے ہرمز سے صرف چھ جہاز گزرے، جبکہ گزشتہ دس دنوں کے دوران یومیہ اوسط تقریباً 11 جہاز رہی۔ جنگ سے قبل اس اہم آبی گزرگاہ سے روزانہ 125 سے 140 جہاز گزرتے تھے۔

دوسری جانب مارکیٹ ذرائع نے امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کے اعدادوشمار کے حوالے سے بتایا کہ 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر تقریباً 91 لاکھ بیرل بڑھ گئے، جبکہ پٹرول کے ذخائر 15 لاکھ بیرل اور ڈیزل و دیگر ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر تقریباً 5 لاکھ 96 ہزار بیرل کم ہوئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی محکمہ توانائی کے ذیلی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری ہونے والے سرکاری اعدادوشمار بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتے ہیں تو خام تیل کے ذخائر میں یہ بڑا اضافہ عالمی منڈی میں سپلائی کی کمی سے متعلق خدشات کو کسی حد تک کم کر سکتا ہے۔

ای آئی اے نے اپنی طویل مدتی پیش گوئی میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی فراہمی میں روزانہ تقریباً 6 لاکھ بیرل کی رکاوٹ 2027 کے اختتام تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔