رائے

بجلی نجکاری کی اُلٹی ترتیب

  • ڈسکو کی نجکاری، سرمایہ کار لانے سے زیادہ مؤثر نگرانی کا امتحان ہے، بولی دہندگان کی تعداد نہیں، نجکاری کے بعد ریگولیٹری استعداد کامیابی کا معیار ہوگی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے نجکاری کمیشن کو فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے لیے چار غیر ملکی اور آٹھ مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے دلچسپی کے اظہار (ایکسپریشن آف انٹرسٹ) موصول ہوئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں پیش کی جانے والی تین بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں فیسکو پہلی کمپنی ہے، جس کے بعد گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (جپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی باری آئے گی۔ سرمایہ کاروں کا یہ ردعمل سنجیدہ بولی دہندگان کو راغب کرنے کے لیے کمیشن کی کوششوں کی توثیق کرتا ہے، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پاکستان نے ایسے ریگولیٹری حالات پیدا کر لیے ہیں جن کے تحت نجکاری کامیاب ہو سکے۔ اب اصل اور مشکل مرحلہ شروع ہوا چاہتا ہے۔

ریگولیٹڈ اجارہ داری کا روایتی طریقہ یہ ہے کہ پہلے ضوابط (قوانین) طے کیے جائیں اور بعد میں ملکیت منتقل کی جائے، لیکن پاکستان اس معاملے میں زیادہ تر کام الٹے طریقے سے کر رہا ہے۔ کمیشن نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ڈسکو کے ٹیرف اسٹرکچر، کثیر سالہ ٹیرف کے نظام، بزنس ماڈل اور مسابقتی سپلائرز کے فریم ورک کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ سرمایہ کاروں سے مشاورت کرے گا۔

یہ اعتراف دلچسپی کے اظہاریوں (ای او آئیز) کی تعداد سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اثاثے کو اس وقت مارکیٹ میں پیش کیا جا رہا ہے جب اس کے مستقبل کے منافع، ذمہ داریوں اور مسابقتی ماحول سے متعلق قوانین اب بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

سرمایہ کاروں سے مشاورت کرنا تو سمجھداری ہے لیکن حتمی خریدار کو ایک مخصوص ریگولیٹری معاہدہ طے کرنے کی اجازت دینا ہرگز درست نہیں۔سرمایہ کاروں کی آراء کو پورے شعبے پر لاگو ہونے والے اصولوں کی تشکیل کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ اس مقصد کے لیے کہ جو بھی کنسورشیم فیسکو حاصل کرے، اسے خصوصی تحفظات فراہم کیے جائیں۔

یہ ضوابط ملکیت کی تبدیلی سے پہلے ہی طے ہو جانے چاہئیں، ورنہ حکومت کو یہ خطرہ مول لینا پڑے گا کہ وہ پہلے ایک علاقائی اجارہ داری کو نجی تحویل میں دے دے گی اور بعد میں یہ انکشاف ہوگا کہ اس نے اس کو ریگولیٹ کرنے کی اپنی زیادہ تر صلاحیت کھو دی ہے۔

پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ ایک مثال ضرور پیش کرتا ہے لیکن تسلی بخش نہیں۔ حکومت نے ہر قانونی، ریگولیٹری اور انتظامی پیشگی شرط کی تکمیل سے پہلے ہی خریدار کا انتخاب کر لیا تھا اور بعد میں بقایا تقاضوں کو پورا کرنے پر کام کیا۔ اگرچہ یہ طریقہ کار آخر کار کامیاب بھی ہو جائے، تب بھی پی آئی اے ڈسکو (بجلی کی تقسیم کار کمپنی) کے لیے ایک مناسب ماڈل نہیں ہے۔ ایک ایئر لائن ایسے مسابقتی بازار میں کام کرتی ہے جہاں صارفین کے پاس متبادل موجود ہوتے ہیں، جبکہ فیسکو ایک ایسے بنیادی ترسیلی نیٹ ورک کو کنٹرول کرتی ہے جس کے صارفین محض تاروں کا دوسرا مجموعہ تبدیل نہیں کر سکتے۔ بجلی کی تقسیم میں ریگولیٹری غلطیوں کو عام صارفین کے انتخاب کے ذریعے درست نہیں کیا جا سکتا۔

بنیادی مسئلے کا حجم بھی خاصا بڑا ہے۔ 2013 سے لے کر اب تک گردشی قرضوں کے بار بار تصفیے نے واجب الادا رقوم کو تو ختم کیا ہے لیکن ان کے دوبارہ جمع ہونے کو نہیں روکا۔ کاغذ پر پاکستان کے پاس پہلے سے ہی لاگت کی وصولی کا ٹیرف ماڈل موجود ہے، اس کے باوجود سیاسی تاخیر، کم وصولیوں، اضافی نقصانات، ناقص اہداف والی سبسڈی اور معاہدوں کی سختیوں کی وجہ سے مالیاتی خلاء مسلسل پیدا ہو رہا ہے۔ ریاست نے اس کا جواب نئی اکائیاں، سرچارجز اور انتظامی تہیں بڑھا کر دیا ہے جبکہ حقیقی مارکیٹ اصلاحات بار بار تعطل کا شکار ہوتی رہی ہیں۔

لہٰذا ڈسکو کی نجکاری کا مقصد فروخت کی زیادہ سے زیادہ رقم حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد بار بار ہونے والے مالیاتی خسارے کا خاتمہ، سروس کی فراہمی میں بہتری اور وہ انتظامی ڈسپلن متعارف کروانا ہونا چاہیے جو سرکاری انتظام دینے میں ناکام رہا ہے۔ خریدار کے منافع کی ضمانت دے کر اسے تجارتی رسک سے بچا کر یا ہر نااہلی کا بوجھ براہ راست صارفین پر ڈال کر حاصل کی جانے والی اونچی قیمت صرف ایک اکاؤنٹنگ کامیابی ہوگی لیکن پالیسی کے اعتبار سے ناکامی ہی تصور کی جائے گی۔

پاکستان کی زیادہ کامیاب نجکاریوں کا عمل کبھی بھی محض ملکیت کی تبدیلی تک محدود نہیں رہا۔ 1990 کی دہائی میں بینکنگ اصلاحات کا آغاز ہوا، جس میں نجکاری کو بہتر نگرانی، پرڈینشل ریگولیشن، کارپوریٹ گورننس اور اسٹیٹ بینک کے لیے زیادہ خودمختاری کے ساتھ جوڑا گیا۔ 2000 کی دہائی کے اوائل میں ٹیلی کام لبرلائزیشن نے زور پکڑا، جس نے ایک ایسی مارکیٹ میں مسابقتی ماحول اور نجی سرمایہ متعارف کروایا جو اس سے پہلے مہنگے کنکشنز اور شدید قلت کا شکار تھی۔ سیمنٹ کی نجکاری نے پرانے گیلے عمل (ویٹ پروسیس) کی پیداوار کو زیادہ مؤثر خشک عمل (ڈرائی پروسیس) کی صلاحیت سے بدل دیا، جس سے بار بار کی قلت کا خاتمہ ہوا اور بالآخر ایک برآمدی سرپلس وجود میں آیا۔

سیمنٹ کی صنعت میں بعد میں کارٹل کا مسئلہ ضرور پیدا ہوا، لیکن یہ سرکاری ملکیتی کارخانوں کو بحال کرنے کی کوئی دلیل نہیں بنتا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نجی کارکردگی اور نجی مارکیٹ کی طاقت ایک ساتھ موجود رہ سکتی ہیں اور یہ کہ نجکاری کے بعد بھی مسابقت کا نفاذ ناگزیر رہتا ہے۔ ملکیتی اصلاحات ریگولیشن کا متبادل نہیں بن سکتیں۔

کے الیکٹرک زیادہ قریب ترین مثال اور وارننگ فراہم کرتی ہے۔ کے الیکٹرک نے نجکاری کے بعد ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات میں نمایاں کمی کی ہے، لیکن سروس، سرمایہ کاری اور اعتماد اور اعتبار کے معاملے میں اس کا ریکارڈ متنازعہ چلا آ رہا ہے۔ جنریشن کا شعبہ اس سے بھی زیادہ واضح فرق پیش کرتا ہے۔ آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) نے غیر معمولی طور پر شاندار منافع حاصل کیا کیونکہ حکومت نے کمزور معاہدے کیے، جب کہ دوسری طرف سرکاری تحویل میں چلنے والا نیلم جہلم پروجیکٹ اربوں روپے ہڑپ کر گیا اور بار بار تکنیکی خرابیوں کے بعد اب بھی بند پڑا ہے۔ سرکاری اور نجی دونوں ملکیتیں وسائل کا ضیاع کر سکتی ہیں، اگرچہ دونوں کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ نجی سرمایہ مراعات کی پیروی کرتا ہے وہ خود بخود عوامی پالیسی پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ ریگولیٹر کا کام منافع کو سرمایہ کاری، قابلِ اعتماد، کم نقصانات اور بہتر سروس کے ساتھ مشروط بنانا ہے۔

حکومت کی طرف سے منتخب کردہ اثاثوں کی ترتیب میں فیسکو کو پہلے نمبر پر رکھنا معنی رکھتا ہے۔ یہ سب سے مضبوط ڈسکوز میں سے ایک ہے، جس کے صنعتی صارفین کی ایک معقول تعداد اور مقابلے کے لحاظ سے قابلِ کنٹرول نقصانات ہیں۔ پہلا کامیاب لین دین کمزور کمپنیوں کے مارکیٹ میں آنے سے پہلے ایک قابلِ اعتبار قیمت اور طریقہ کار کا معیار قائم کر سکتا ہے۔ یہ یہ بھی ظاہر کر سکتا ہے کہ سیاسی اور عملی خطرات کی مناسب قیمت لگنے کے بعد سرمایہ کار حقیقت میں کتنی رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

زیادہ مشکل سوالات ڈیو ڈیلیجنس (جانچ پڑتال) کے دوران سامنے آئیں گے۔ سرمایہ کار ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ، سبسڈی کی ادائیگیوں، سرکاری بقایاجات، پرانے قابلِ وصول واجبات، ملازمین اور پنشن کی ذمہ داریوں، چوری کے خلاف نفاذ، سرمائے کے اخراجات کی پابندیوں اور تقسیم شدہ سولر اور کیپٹیو جنریشن کی طرف منتقل ہونے والے صارفین کے معاملے کے حوالے سے یقین دہانی چاہیں گے۔ ان میں سے بہت سے خدشات درست ہیں۔ حکومت کا کام ریگولیٹری یقین دہانی کے مطالبات کو ان کوششوں سے الگ کرنا ہے جو تجارتی خطرے کو واپس ریاست پر منتقل کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ فیسکو کو فروخت کرنے کے لیے دی جانے والی ہر رعایت کمزور ڈسکوز کے لیے بولی لگانے والوں کی طرف سے ایک لازمی مطالبہ (مثال) بن جائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ پاور ڈویژن کے اندر مزاحمت کوئی حیرت کی بات نہیں۔ اس بیوروکریسی کے سامنے، جس نے دہائیوں تک موجودہ نظام (اسٹیٹس کو) کو برقرار رکھنے اور بچانے میں صرف کیے ہیں، آگے بڑھنے کا وزیراعظم کا عزم ہی شاید وہ واحد قوت ہے جو اس جمود کو توڑ سکتا ہے۔ لین دین کا یہ دباؤ ایسی اصلاحات پر مجبور کر سکتا ہے جنہیں عام پالیسی سازی کے تحت بار بار موخر کیا جاتا رہا ہے لیکن اس دباؤ کو پائیدار ضوابط بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ انہیں نظر انداز کرنے کے لیے۔

مالیاتی بندش (فنانشل کلوز) سے پہلے پاکستان کو ایک قابلِ اعتبار کثیر سالہ ٹیرف فریم ورک نافذ کرنے کے قابل سروس اور سرمایہ کاری کے معیارات، سبسڈی اور سرکاری واجبات کی ادائیگی کا ایک شفاف طریقہ کار، پرانے ملازمین اور ذمہ داریوں کے لیے ایک قابلِ عمل منصوبہ اور ایک ایسا ریگولیٹر درکار ہے جو اس معاہدے پر عمل درآمد کرانے کے لیے خودمختاری اور صلاحیت کا حامل ہو۔ اس فریم ورک کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ چھتوں پر لگنے والے سولر پینلز اور کیپٹیو جنریشن گرڈ کے بہتر ادائیگی کرنے والے کچھ صارفین کو کھینچ رہے ہیں، جس سے نیٹ ورک کے اخراجات ایک سکڑتی ہوئی بنیاد سے وصول کرنے کے لیے رہ جاتے ہیں۔ پاکستان کل کے یوٹیلیٹی ماڈل کو نجی تحویل میں نہیں دے سکتا اور یہ فرض نہیں کر سکتا کہ ٹیکنالوجی اس کا انتظار کرتی رہے گی۔

پاکستان نے ڈسکو کی نجکاری کا آغاز غلط ترتیب سے کیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا عمل ناگزیر طور پر ناکام ہو جائے گا۔ دلچسپی کے اظہار اور جانچ پڑتال کا عمل ریگولیٹری اصلاحات سے پہلے ہو سکتا ہے، لیکن ملکیت کی منتقلی پہلے نہیں ہو سکتی۔ پی آئی اے نے یہ دکھایا کہ قانونی اور ریگولیٹری امور کے تاحال نامکمل رہنے کے باوجود کسی خریدار کا انتخاب کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ ایک پائیدار اصلاحاتی ماڈل ہے اور ایک ایئر لائن کوئی اجارہ دار نیٹ ورک نہیں ہوتی۔ لہٰذا فیسکو میں کامیابی کا معیار بولی دہندگان کی تعداد یا سرخیوں میں بننے والی فروخت کی بڑی قیمت نہیں ہوگی۔ اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا پاکستان اس کمپنی کو فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ اسے ریگولیٹ کرنے کی اپنی صلاحیت بھی برقرار رکھ پاتا ہے یا نہیں۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026