پاکستان

حکومت کی توجہ توانائی کے تحفظ پر مرکوز ہے، وزیر پٹرولیم

  • ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے، علی پرویز ملک
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پٹرولیم کے شعبے میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اسٹریٹجک اور سفارتی کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد اگلی بڑی منزل پائیدار معاشی ترقی ہے۔

پاکستان کو درپیش توانائی کے چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے، جبکہ مقامی تیل کی پیداوار تقریباً 70,000 بیرل یومیہ ہے، جس کے مقابلے میں یومیہ طلب تقریباً 500,000 بیرل ہے۔ انہوں نے درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی سطح پر تیل اور گیس کی تلاش کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ایک معروف عالمی کمپنی کو ملک کے توانائی کے شعبے کے لیے جامع روڈ میپ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے، جسے آئندہ چند ماہ میں قومی قیادت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ریفائنری پالیسی کی منظوری دے دی ہے اور حکومت پٹرولیم کے شعبے کو درپیش دیرینہ مالی مسائل حل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گردشی قرضے میں اضافے کا سلسلہ روک دیا گیا ہے اور سابقہ حکومتوں سے ورثے میں ملنے والی واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ ترکیہ کی کمپنی ترکش پیٹرولیم جلد پاکستان کی علاقائی سمندری حدود میں آف شور ڈرلنگ شروع کرے گی، جس سے توانائی کے شعبے میں بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایل پی جی کے ٹینڈرز پیر کو کھولے جائیں گے، جبکہ صارفین کی سہولت کے لیے نئے گیس کنکشن جاری کرنے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

انہوں نے قوم کو پاکستان کے 79ویں یوم آزادی پر مبارکباد دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہر شہری کو ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔

وزیر پٹرولیم نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کوششوں سے طے پانے والا مکہ معاہدہ قومی فخر کا باعث ہے۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں ایک مؤثر سکیورٹی فراہم کنندہ بن کر ابھرا ہے، جبکہ سعودی عرب کی معاشی طاقت، ترکیہ کی تکنیکی ترقی اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں مل کر خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کریں گی۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی فیصلے کیے جن سے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔ اب ملکی توجہ ڈیفالٹ کے خدشات کے بجائے معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے پر مرکوز ہے۔

بین الاقوامی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع نے عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کیے ہیں، جس کے نتیجے میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ان دباؤ کے باوجود حکومت نے ملک بھر میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی اور عالمی قیمتوں میں اضافے کے مکمل اثرات سے صارفین کو محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

وزیر پٹرولیم نے کہا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا شفاف طریقہ کار متعارف کرایا ہے، جس کے تحت قیمتوں کے تعین سے متعلق تمام حسابات آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔