کاروبار اور معیشت

وزارت آئی ٹی اور کمپیٹیشن کمیشن کا تنازع، ٹیلی کام مسابقتی قوانین ایک دہائی سے التوا کا شکار

  • سرکاری دستاویزات کے مطابق اصل اختلاف اس بات پر ہے کہ پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کے لیے مسابقت سے متعلق قوانین وضع کرنے کا قانونی اختیار کس ادارے کے پاس ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے درمیان اختیارات کے دیرینہ تنازعے کو ہ ٹیلی کام مسابقتی قوانین کو حتمی شکل دینے میں گزشتہ ایک دہائی سے جاری تاخیر کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق اصل اختلاف اس بات پر ہے کہ پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کے لیے مسابقت سے متعلق قوانین وضع کرنے کا قانونی اختیار کس ادارے کے پاس ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) ایکٹ 1996 کی دفعہ 57 کے تحت وفاقی حکومت قواعد بنانے کی مجاز ہے، جبکہ ٹیلی کام پالیسی 2015 کی شق 5.1.2 وزارتِ آئی ٹی کو ٹیلی کام مسابقتی قوانین تیار کرنے کی ذمہ داری سونپتی ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس نے ٹیلی کام پالیسی 2015 کے نوٹیفکیشن کے بعد 2016 میں قواعد کا ابتدائی مسودہ وزارت کو ارسال کیا تھا۔

2017 اور 2018 میں وزارت نے عوامی مشاورت کا عمل مکمل کرنے کے بعد مسودہ قانونی جانچ پڑتال کے لیے وزارتِ قانون و انصاف کو بھجوایا۔ اس دوران پی ٹی اے وزارت کو متعدد بار یاد دہانیاں کراتی رہی تاکہ قوانین کو جلد حتمی شکل دی جا سکے۔

ریگولیٹر کے مطابق 2022 میں بھی قوانین کا نظرثانی شدہ مسودہ وزارت کو بھجوایا گیا تاکہ پیش رفت ممکن ہو سکے۔

تاہم پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کا مؤقف ہے کہ وزارتِ آئی ٹی کو مقابلہ جاتی قواعد بنانے کا اختیار حاصل نہیں، کیونکہ مسابقت سے متعلق معاملات کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ دونوں اداروں کے درمیان یہی اختلاف اس عمل میں تعطل کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے یکم نومبر 2025 کو اپنے تفصیلی فیصلے میں ٹیلی کام شعبے میں مسابقت اور گمراہ کن مارکیٹنگ کے معاملات پر سی سی پی کے دائرہ اختیار کو برقرار رکھتے ہوئے جاز، ٹیلی نار، زونگ، یوفون اور پی ٹی سی ایل کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ سی سی پی کو ٹیلی کمیونیکیشن سمیت معیشت کے تمام شعبوں پر وسیع دائرہ اختیار حاصل ہے، جبکہ کمپیٹیشن ایکٹ 2010 اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) ایکٹ 1996 الگ مگر ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے قانونی دائرے رکھتے ہیں۔

عدالت کے مطابق پی ٹی اے ٹیلی کام شعبے کے تکنیکی اور آپریشنل امور کی نگرانی کرتا ہے، جبکہ سی سی پی کو غیر مسابقتی سرگرمیوں، اجارہ داری کے ناجائز استعمال، ملی بھگت پر مبنی انتظامات اور گمراہ کن مارکیٹنگ کی روک تھام کا قانونی اختیار حاصل ہے۔

تازہ پیش رفت کے مطابق اس تعطل کو ختم کرنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ جنوری 2026 میں وزارتِ آئی ٹی نے قواعد کا نظرثانی شدہ مسودہ متعلقہ اداروں کو بھیجا، جس پر پی ٹی اے نے مارچ میں اپنی آرا پیش کیں۔ بعد ازاں دونوں اداروں کے درمیان متعدد اجلاس ہوئے۔ 7 جولائی 2026 کو وزارت نے ایک اور نظرثانی شدہ مسودہ شیئر کیا، جس پر پی ٹی اے نے 27 جولائی کو اپنی تازہ تجاویز جمع کرائیں۔

تاہم کئی ادوار کی مشاورت اور ترامیم کے باوجود قواعد تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے، جس کے باعث پاکستان کا ٹیلی کام شعبہ اب بھی ٹیلی کام پالیسی 2015 کے تحت تصور کیے گئے مخصوص مقابلہ جاتی فریم ورک سے محروم ہے۔

ماہرین کے مطابق شعبہ جاتی مقابلہ جاتی قواعد کی عدم موجودگی سے ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ٹیلی کام مارکیٹ انضمام کے عمل سے گزر رہی ہے اور 5G سمیت نئی نسل کی ٹیکنالوجیز متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جب تک وزارتِ آئی ٹی اور کمپیٹیشن کمیشن کے درمیان اختیارات کا تنازع حل نہیں ہوتا، ہ ٹیلی کام مسابقتی قوانین کو حتمی شکل ملنے کا امکان کم ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026