جاپان اور امریکا کی مشترکہ ین خریداری مداخلت کی تصدیق، مزید اقدامات کا عندیہ
- یہ غیر معمولی اقدام ین کو 40 سال کی کم ترین سطح تک گرنے سے روکنے کے لیے کیا گیا
جاپان کی وزارت خزانہ نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ جاپان اور امریکا نے ین کی قدر میں مسلسل کمی روکنے کے لیے مشترکہ طور پر کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کی، جبکہ دونوں ممالک نے آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
یہ غیر معمولی اقدام ین کو 40 سال کی کم ترین سطح تک گرنے سے روکنے کے لیے کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام کا مقصد ین اور جاپانی حکومتی بانڈز میں شدید فروخت کے عالمی اثرات کو محدود کرنا ہے، کیونکہ اس سے امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
جاپانی وزارت خزانہ کے مطابق جمعہ کو امریکی محکمہ خزانہ کے تعاون سے کی گئی ین خریداری کی مداخلت نے حالیہ مہینوں میں جاپانی کرنسی میں ضرورت سے زیادہ اتار چڑھاؤ اور بے ترتیبی کو روکنے میں مدد دی۔
وزارت نے کہا کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گی اور مزید مشترکہ مداخلت سے گریز نہیں کرے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ واشنگٹن جاپان کی مدد کر رہا ہے تاکہ ین کو سہارا دیا جا سکے اور عالمی معیشت کو فائدہ پہنچے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی جمعہ کے اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مزید مشترکہ مداخلت میں حصہ لینے سے دریغ نہیں کرے گا۔
اعلان کے بعد پیر کو ایشیائی تجارت میں ڈالر کے مقابلے میں ین مضبوط ہوا۔ ڈالر 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 156.50 ین کی سطح تک آ گیا۔
جاپان کے اعلیٰ کرنسی سفارت کار اتسوشی میمورا نے کہا کہ حکومت بینک آف جاپان کی مالیاتی پالیسی کے ساتھ مل کر ین کی گراوٹ روکنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور جاپان و امریکا کے درمیان شرح سود کا فرق جیسے بنیادی عوامل اب بھی ین پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اس لیے طویل مدت میں کرنسی کو مضبوط کرنا ایک چیلنج رہے گا۔