کاروبار اور معیشت

بجلی کمپنیوں نے صارفین سے 23 ارب کی وصولی کیلئے فی یونٹ 1 روپے تک اضافے کی درخواست دیدی

  • درخواست کے مطابق ٹیسکو اور کیسکو کے علاوہ دیگر ڈسکوز نے کیپیسٹی چارجز کی مد میں 49.746 ارب روپے وصول کرنے کی درخواست کی ہے
شائع اپ ڈیٹ

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے اپریل تا جون 2026 کی دوسری سہ ماہی کے لیے سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) میکانزم کے تحت صارفین سے 23.031 ارب روپے سے زائد وصولی کے لیے فی یونٹ 1 روپے تک مثبت ایڈجسٹمنٹ کی درخواست کی ہے۔ اس میں ڈسکوز کے ساتھ کے الیکٹرک کے صارفین بھی شامل ہوں گے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ڈسکوز کی جانب سے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (سی پی پی اے-جی) کی دائر کردہ درخواست پر 12 اگست 2026 کو عوامی سماعت مقرر کی ہے۔

درخواست کے مطابق ٹیسکو اور کیسکو کے علاوہ دیگر ڈسکوز نے کیپیسٹی چارجز کی مد میں 49.746 ارب روپے وصول کرنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم متغیر آپریشن اینڈ مینٹیننس چارجز، سسٹم کے استعمال کے چارجز، مارکیٹ آپریٹر فیس اور ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) میں ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات کے اثرات کے باعث 13.517 ارب روپے کی منفی ایڈجسٹمنٹ سے اس رقم میں کمی کی گئی ہے۔

صلاحیت چارجز کی تفصیلات کے مطابق:فیسکو: 9.573 ارب روپے،گیپکو: 7.587 ارب روپے،حیسکو: منفی 599 ملین روپے ،آئیسکو: 6.867 ارب روپے،لیسکو: 10.484 ارب روپے،میپکو: 9.244 ارب روپے،پیسکو: 7.762 ارب روپے،کیسکو: منفی 3.008 ارب روپے ،سیپکو: 3.860 ارب روپے،ٹیسکو: منفی 3.790 ارب روپے

ہیزکو: 1.766 ارب روپے۔

نیپرا کو جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق:آئیسکو نے 4.872 ارب روپے،لیسکو نے 2.353 ارب روپے،گیپکو نے 4.992 ارب روپے،فیسکو نے 5.358 ارب روپے

میپکو نے 5.070 ارب روپے،پیسکو نے 6.294 ارب روپے،سیپکو نے 2.960 ارب روپے ہیزکو نے 1.239 ارب روپےکی مجموعی مثبت ایڈجسٹمنٹ مانگی ہے۔دوسری جانب حیسکو نے 2.083 ارب روپے،کیسکو نے 3.647 ارب روپے،ٹیسکو نے 4.377 ارب روپے کی منفی ایڈجسٹمنٹ طلب کی ہے۔ مجموعی طور پر خالص اثر 23.031 ارب روپے بنتا ہے۔

منفی ایڈجسٹمنٹ میں: 4.955 ارب روپے متغیر آپریشن اینڈ مینٹیننس چارجز، 13.517 ارب روپے سسٹم استعمال چارجز اور مارکیٹ آپریٹر فیس،جبکہ 3.20 ارب روپے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات کے اثرات شامل ہیں۔

نیپرا کے مطابق وفاقی حکومت کی یکساں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ پالیسی کے تحت ڈسکوز کے لیے مقرر کردہ کیو ٹی اے کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی کیا جائے گا۔

حالیہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی سماعت کے دوران دوسری سہ ماہی کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آیا تھا، جس پر نیپرا کے کیس افسر نے بتایا کہ ڈسکوز نے 23 ارب روپے سے زائد ایڈجسٹمنٹ طلب کی ہے۔ تاہم پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کے چیف فنانشل افسر نوید قیصر نے وضاحت کی کہ اصل اثر کم ہو سکتا ہے اور یہ تقریباً 17 سے 18 ارب روپے تک رہ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی قیمت میں تقریباً 1 روپے فی یونٹ اضافہ متوقع ہے۔

ٹیکسٹائل شعبے کی نمائندگی کرتے ہوئے عامر شیخ نے خبردار کیا کہ کیو ٹی اے اور ایف سی اے دونوں کے مشترکہ اثر سے صنعتی بجلی کے نرخوں میں 2.5 سے 3 روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا ہے، جو تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت عالمی عوامل، جن میں خلیجی خطے کی کشیدگی بھی شامل ہے، کے باعث ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مخالفت نہیں کرتی، تاہم اصل لاگت کے عوامل کو شفاف انداز میں پیش کرنا ضروری ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026