دنیا

ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے تحت حماس نے غیر مسلح ہونے پر آمادگی ظاہر کر دی

  • حماس کے عہدیداروں کے مطابق غزہ کے انتظام کے لیے ٹرمپ کے قائم کردہ "بورڈ آف پیس" کی کمیٹی حماس کے ہتھیار محفوظ کرنے کے عمل کی نگرانی کرے گی
شائع اپ ڈیٹ

حماس نے جمعہ کو کہا کہ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ اس معاہدے سے اتفاق کر لیا ہے جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ معاہدے کے تحت حماس اپنے ہتھیار ایک فلسطینی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرے گی، جبکہ اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ سے انخلا کریں گی۔

اسرائیل نے تاحال اس اعلان پر باضابطہ ردِعمل نہیں دیا، تاہم ایک سیاسی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ”جب تک حماس حقیقی معنوں میں غیر مسلح نہیں ہوتی، اسرائیلی افواج اپنی موجودہ پوزیشنوں سے کسی بھی قسم کا انخلا نہیں کریں گی۔“

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے اس معاہدے کو ”ناقابل قبول“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ حماس کو آئندہ کسی بڑے حملے کی تیاری کا موقع دینے کے مترادف ہے۔“

اکتوبر سے نافذ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں حماس کے ہتھیار ایک اہم رکاوٹ سمجھے جا رہے تھے، تاہم صدر ٹرمپ نے جمعرات کی شب حماس کے ”مکمل غیر مسلح ہونے“ سے متعلق ایک معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

اسرائیلی ذریعے نے مزید بتایا کہ اس ہفتے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ملاقات کے دوران غزہ کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا۔

حماس کے عہدیداروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ غزہ کے انتظام کے لیے ٹرمپ کے ”بورڈ آف پیس“ کے تحت قائم کی گئی ایک کمیٹی حماس کے ہتھیار محفوظ رکھنے کے عمل کی نگرانی کرے گی۔

حماس نے کہا کہ اسے توقع ہے کہ ثالث ممالک اور بورڈ آف پیس اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ اسرائیل معاہدے کی شرائط پر عمل کرے، جن میں غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا بھی شامل ہے۔

اسرائیل طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ اس کی افواج کے انخلا سے قبل حماس مکمل طور پر غیر مسلح ہو۔ اعلان سے قبل ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے نے کہا تھا کہ غزہ سے اسلحے کا مکمل خاتمہ اور پوری پٹی کو غیر فوجی علاقہ بنانا کسی بھی سیاسی عمل کے آغاز کے لیے بنیادی شرط ہے۔

حماس کی مذاکراتی ٹیم کے رکن غازی حمد نے کہا کہ تحریک ”غزہ کے عوام کو قتل و غارت اور بے دخلی سے بچانے کے لیے ضروری رعایتیں دے رہی ہے۔“

انہوں نے کہا، ”غیر مسلح کرنے کے معاملے میں اسرائیل کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ یہ ذمہ داری نیشنل کمیٹی انجام دے گی،“ ان کا اشارہ غزہ کی انتظامی قومی کمیٹی (این سی اے جی) کی جانب تھا۔

اکتوبر میں جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ صحت کے حکام کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی فضائی حملوں میں دو بچوں سمیت کم از کم چار افراد جاں بحق ہوئے۔

اب توجہ معاہدے پر عمل درآمد پر

بورڈ آف پیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ حماس نے ”غزہ جنگ بندی کے اگلے مراحل پر عمل درآمد کے تفصیلی لائحۂ عمل“ سے اتفاق کر لیا ہے۔

تنظیم نے کہا، ”اب ہماری توجہ معاہدے پر عمل درآمد پر مرکوز ہے،“ اور مزید بتایا کہ غزہ کی انتظامی قومی کمیٹی (این سی اے جی) جلد ہی مرحلہ وار مکمل انتظامی اختیارات سنبھالنے کا عمل شروع کرے گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کے بعد اسرائیلی افواج غزہ سے واپس چلی جائیں گی، جبکہ بین الاقوامی استحکام فورس نئی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری سنبھالے گی تاکہ وہاں کے رہائشیوں اور پڑوسی ممالک کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔

غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولائے ملادینوف نے جمعہ کو کہا کہ اس معاہدے تک پہنچنے میں ”کئی ماہ کی انتہائی مشکل مذاکراتی کوششیں“ درکار تھیں۔

انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا، ”اب اس سے بھی زیادہ اہم مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ معاہدے پر حقیقی عمل درآمد اور اس کی مؤثر نگرانی یقینی بنانا ہوگی۔“

انہوں نے مزید کہا، ”اسرائیلی افواج کا انخلا اور حماس کے ہتھیار مرحلہ وار ختم کرنے کا عمل ایک ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔“

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کی کامیابی ”تمام فریقوں کے مکمل عزم“ پر منحصر ہوگی۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا، ”اس معاہدے کی کامیابی کے لیے کئی مراحل طے کرنا ہوں گے۔ حماس کی شرائط پر عمل درآمد کی تصدیق ایک بڑا چیلنج ہوگی، جبکہ اسرائیل کو بالآخر غزہ سے انخلا بھی کرنا ہوگا۔“

”کسی کے لیے کوئی استثنا نہیں“

مصر کے سرکاری حمایت یافتہ ٹی وی چینل القاہرہ نیوز کے مطابق جنگ بندی کے ثالثوں کا ایک اجلاس جلد قاہرہ میں ہوگا، جس میں امریکا، قطر اور ترکیہ بھی شریک ہوں گے۔ اجلاس میں جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے پر توجہ دی جائے گی۔

اس سے قبل ایک سفارتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ روڈ میپ ”متوازن اور قابلِ عمل پیش رفت کا راستہ فراہم کرتا ہے، جس کے تحت تمام ہتھیار مرحلہ وار ختم کیے جائیں گے اور اختیارات نئی فلسطینی انتظامیہ کو بتدریج منتقل کیے جائیں گے۔“

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذریعے نے کہا کہ ”کسی مخصوص ہتھیار یا کسی مخصوص فرد کے لیے کوئی استثنا نہیں ہوگا۔“

ذرائع کے مطابق اس روڈ میپ کے تحت تمام سرنگوں، اسلحہ گوداموں اور ہتھیار بنانے کی تمام تنصیبات کے خاتمے کا طریقۂ کار بھی وضع کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے پر دونوں فریقوں کے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک نگرانی اور تصدیقی نظام بھی قائم کیا جائے گا۔

مذاکرات سے باخبر حماس کے ایک ذریعے نے اس سے قبل اے ایف پی کو بتایا تھا کہ تحریک ”ثالثوں کو حال ہی میں بھیجی گئی اپنی ترامیم پر اسرائیل کے جواب کی منتظر ہے۔“

اس ذریعے کے مطابق یہ ترامیم بورڈ آف پیس کی جانب سے پیش کیے گئے روڈ میپ کی دو شقوں سے متعلق ہیں۔

ہتھیاروں سے متعلق شق کے بارے میں حماس کے ذریعے نے بتایا کہ ”چند نکات حذف کر دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی جگہ متبادل تجاویز پیش کی گئی ہیں۔“