مارکٹس

عراق میں حملوں کے بعد امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، خام تیل مہنگا ہوگیا

  • برینٹ خام تیل کے فیوچر 3.15 ڈالر یا 3.8 فیصد اضافے کے ساتھ 87.24 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
شائع اپ ڈیٹ

امریکا اور سعودی عرب کی جانب سے عراق میں مشترکہ کارروائیوں، مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے ایران کے بیلسٹک میزائلوں کو ناکام بنانے، اور امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں کمی کے بعد بدھ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 ڈالر فی بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر 3.15 ڈالر یا 3.8 فیصد اضافے کے ساتھ 87.24 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 2.73 ڈالر یا 3.4 فیصد بڑھ کر 81.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ 24 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا میں خام تیل کے ذخائر تقریباً 3.3 ملین بیرل کم ہوئے۔ دوسری جانب پٹرول کے ذخائر میں 918,000 بیرل جبکہ ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر میں 355,000 بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کی جانب سے بعد میں جاری کیے جائیں گے۔

ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس اکتوبر سے تین ماہ کے لیے تیل کی پیداوار میں اضافے کا سلسلہ روکنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ رضاکارانہ کٹوتیوں کے تحت واپس لائی جانے والی پیداوار مکمل ہونے کے بعد کیا جا سکتا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ منگل کو جنگ بندی کی کوششوں کی خبروں پر تیل کی قیمتیں تقریباً 5 فیصد گر گئی تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اچھی بات چیت جاری ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

دریں اثنا، خلیجی اور مغربی سفارتی ذرائع کے مطابق عمان نے ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں گزرنے والے بحری جہازوں سے رضاکارانہ فیس وصول کرنے کی تجویز شامل ہے۔ خلیجی ممالک کی حمایت یافتہ اس تجویز کا مقصد جنگ کے باعث متاثر ہونے والی عالمی تجارتی سرگرمیوں اور تیل کی ترسیل کو معمول پر لانا ہے۔