عمان نے آبنائے ہرمز پر رضاکارانہ فیس کے منصوبے کی ایران کو خلیجی حمایت کے ساتھ پیشکش کر دی
- تنازع کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارت میں پیدا ہونے والی رکاوٹ ختم کرنے کی غرض سے پیش کی گئی عمانی تجاویز پر تہران نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا
عمان نے خلیجی ممالک کی حمایت سے آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایران کو ایک منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں اس اہم بحری گزرگاہ کے استعمال پر رضاکارانہ فیس وصول کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ بات ایک خلیجی ذریعے اور ایک مغربی سفارت کار نے منگل کو رائٹرز کو بتائی۔
ایک سینئر ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی آمدورفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے خاتمے کی بنیاد بننے کے لیے پیش کی گئی عمانی تجاویز پر تہران نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، جنہوں نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں اچانک دو ہفتوں سے جاری امریکی بمباری مہم روک دی تھی، کہا کہ ایران کے ساتھ ”اچھی بات چیت“ جاری ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
واشنگٹن نے رواں ماہ کے آغاز میں آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت ختم کرنے کے مقصد سے اپنی نئی بمباری مہم شروع کی تھی۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل اسی بحری گزرگاہ کے ذریعے ہوتی تھی۔
امریکا اور اسرائیل کے 28 فروری کے حملوں کے بعد ایران نے اپنی ملکی بحری آمدورفت کے علاوہ دیگر جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز عملاً بند کر دی تھی۔ گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت اس بحری راستے کو جزوی طور پر دوبارہ کھول دیا گیا تھا، تاہم جولائی کے اوائل میں یہ معاہدہ اس وقت ٹوٹ گیا جب ایران نے ایسے جہازوں پر فائرنگ کی جو اس آبی گزرگاہ کے اس راستے سے گزر رہے تھے جسے تہران منظور نہیں کرتا تھا۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کا انتظام عمان کے ساتھ مشترکہ طور پر کرنا چاہتا ہے، جو اس کے دوسرے کنارے پر واقع ہے، اور اس بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے خدمات کے عوض فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن جنگ سے پہلے کی صورتحال بحال کرنا چاہتا ہے، جب جہاز بغیر کسی ادائیگی کے آزادانہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، اور اس کا مؤقف ہے کہ لازمی فیس عائد کرنا بین الاقوامی قانون کے خلاف ہوگا۔
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک خلیجی ذریعے اور ایک مغربی سفارت کار کے مطابق عمان کی تجویز کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل اختیار حاصل نہیں ہوگا، جبکہ اس کے استعمال پر ادا کی جانے والی فیس رضاکارانہ ہوگی۔
یہ نظام آبنائے ملاکا میں رائج طریقہ کار سے مشابہ ہوگا، جہاں انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور جہازوں سے بحری گزرگاہ کی رہنمائی، ماحولیاتی تحفظ اور تلاش و امداد کی کارروائیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے رضاکارانہ مالی تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔
مغربی سفارت کار نے اس تجویز کا موازنہ فضائی سفر کے دوران رضاکارانہ کاربن ٹیکس سے کیا، جس میں ٹکٹ خریدنے والا مسافر اپنی مرضی سے اضافی ادائیگی کر کے اپنے کاربن اخراج کے ازالے میں حصہ ڈال سکتا ہے۔
ادھر خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے وزرائے خارجہ نے منگل کو ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں تنازع کی تازہ صورتحال پر غور کیا۔ قطر کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق اجلاس میں آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی آزادی اور سلامتی سے متعلق تعاون مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز کو مسترد کر دیا، جس کے تحت بحری جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کا ہرجانہ ایران کے منجمد اثاثوں سے ادا کرنے کی بات کی گئی تھی۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کمان نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک یا کمپنی ایسی ادائیگی قبول کرے گی، ایران کی مسلح افواج اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔
ٹرمپ کا مزید حملوں کا انتباہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی کمانڈروں کے اس مشورے کے بعد اپنی تازہ فضائی بمباری مہم روک دی کہ یہ حکمت عملی اپنے مقاصد حاصل کر چکی ہے۔
امریکا کی جانب سے 13 راتوں تک جاری رہنے والی نئی بمباری میں ایران میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ جنوبی علاقوں میں پل، سرنگیں اور متعدد فوجی اہداف تباہ ہو گئے۔
ایران نے اس کے جواب میں پڑوسی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے، جن میں چار امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ تہران نے خلیجی ممالک میں شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ کارروائیاں امریکا کی جانب سے شہری اہداف پر حملوں کے ردعمل میں کی گئیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ جب تک واشنگٹن جنگ بندی پر قائم رہے گا، وہ بھی حملوں سے گریز کرے گا۔ تاہم پیر کو اردن، سعودی عرب اور شمالی ایران میں ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ اردن نے منگل کو ایک اور ڈرون مار گرانے کا اعلان کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو واشنگٹن میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات سے قبل فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اس وقت امریکا ایک مضبوط پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ وہ ایران کے مزید اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کی ترجیح ایسا کرنے سے گریز کرنا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ تقریباً 9 کروڑ 10 لاکھ افراد بجلی، پلوں اور بنیادی سہولتوں سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے، اور یہ ایک انتہائی نازک صورتحال ہے۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ اس وقت ہماری پوزیشن بہت مضبوط ہے، اور ایران جانتا ہے کہ اگر اس نے معاہدہ نہ کیا تو میں دوبارہ کارروائی کروں گا۔“
انہوں نے ایران کے پک ایکس ماؤنٹین کو بھی دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکی دہرائی۔ یہ تہران کی ایک اہم جوہری تنصیب کے قریب زیرِ زمین واقع ایک انتہائی محفوظ مرکز ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ”اگر معاہدہ نہ ہوا تو ہم اسے بہت آسانی سے تباہ کر دیں گے۔“
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ اس نے امریکا کے ساتھ کسی نئے مذاکرات کی کوشش نہیں کی۔ تہران کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن نے گزشتہ ماہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے فریم ورک سے متعلق ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واشنگٹن میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔
اسرائیل نے ایران کے خلاف ابتدائی بمباری مہم میں حصہ لیا تھا، تاہم بعد ازاں شروع ہونے والی امن بات چیت میں وہ شامل نہیں رہا۔ اس دوران ٹرمپ کو نیتن یاہو کو لبنان میں اہداف پر حملوں سے روکنا پڑا تاکہ ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کو کمزور کرنے کی کوششیں تہران کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو مزید پیچیدہ نہ بنا دیں۔
ہفتے کے آخر میں امریکا کی بمباری مہم کے خاتمے کے اعلان کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد کمی آئی، جبکہ منگل کو بھی یہ رجحان برقرار رہا۔ منگل کی صبح تک برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدے تقریباً 1.6 فیصد کمی کے بعد 87 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہے تھے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جون میں مذاکرات کے ایک فریم ورک پر اتفاق ہوا تھا، جس کے تحت اگست کے اختتام تک ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم تنازعات کے حل کے لیے باضابطہ مذاکرات ہونا تھے۔