کاروبار اور معیشت

یوفون ٹیلی نار انضمام، مجوزہ ری برانڈنگ پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا

  • حکومت نے نئی کمپنی کو "e&" کے نام سے ری برانڈ کرنے کے مجوزہ منصوبے پر عارضی طور پر روک لگا دی ہے
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد نئی کمپنی کو ”e&“ کے نام سے ری برانڈ کرنے کے مجوزہ منصوبے پر عارضی طور پر روک لگا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی کی شناخت سے لفظ پاکستان ہٹانے اور اس فیصلے کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس معاملے نے سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے بورڈز میں حکومت کے نامزد ڈائریکٹرز کی جوابدہی پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے بعض ڈائریکٹرز کو ہر بورڈ اجلاس کے عوض 5,000 امریکی ڈالر تک معاوضہ دیا جاتا ہے۔

تنازع اس وقت سامنے آیا جب یوفون کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام کے بعد قائم ہونے والی کمپنی کے لیے ”e&“ برانڈ نام کی منظوری دی۔ بورڈ میں حکومت کے نامزد اراکین بھی شامل ہیں، جن میں مسلم لیگ (ن) کی ایک سینیٹر اور دو وفاقی سیکریٹریز شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس سے قبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے بورڈ نے یہی تجویز مؤخر کر دی تھی، تاہم یوفون بورڈ کی منظوری کے بعد حکومت کی اعلیٰ سطح پر تشویش پیدا ہوئی اور فوری مداخلت کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اب ری برانڈنگ کا عمل روکنے اور معاملہ وزارت قانون کو بھجوانے پر غور کر رہی ہے تاکہ یہ رائے لی جا سکے کہ آیا یوفون کا بورڈ انضمام سے قبل تمام قانونی، ریگولیٹری اور کارپوریٹ تقاضے مکمل ہوئے بغیر نئی کمپنی کی کارپوریٹ شناخت کی منظوری دینے کا اختیار رکھتا ہے یا نہیں۔

حتمی قانونی رائے آنے تک ”e&“ برانڈ کے اجراء کا فیصلہ مؤخر رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث ری برانڈنگ کا عمل عملاً معطل ہو سکتا ہے۔

ادھر اس معاملے نے سرکاری کمپنیوں میں کارپوریٹ گورننس کے معیار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ قومی اہمیت کے حامل اداروں کے بورڈ اراکین، خصوصاً سرکاری نمائندوں، کو ایسے فیصلے کرتے وقت قانون، کارپوریٹ گورننس اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

دریں اثنا، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 16 جون 2026 کو برانڈ نام کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ کمپنی انضمام کے قانونی مراحل مکمل ہونے اور برانڈ کے تجارتی آغاز سے قبل اتھارٹی کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے۔ بعد ازاں 2 جولائی کے خط میں بھی پی ٹی اے نے یہی ہدایت دہرائی کہ انضمام قانون کے مطابق مؤثر ہونے کے بعد ہی برانڈ کے تجارتی استعمال یا تشہیری مہم کا آغاز کیا جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026