پاکستان، ایران کا سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
- اسلام آباد میں وزارت داخلہ پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ کا پرتپاک استقبال کیا گیا
پاکستان اور ایران نے سیکیورٹی، سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے تین روزہ سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات میں سامنے آیا۔
اسلام آباد میں وزارت داخلہ پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جبکہ وفاقی کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ بعد ازاں دونوں وزرائے داخلہ نے پہلے ون آن ون ملاقات کی اور پھر اپنے اپنے وفود کے ہمراہ تفصیلی مذاکرات کیے۔
ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، سرحدی سیکیورٹی اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل مکانی اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مربوط اقدامات پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سیکیورٹی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔
فریقین نے بالخصوص افغان سرحد سے متعلق سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔
ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی خطے میں امن کے فروغ کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی اقدامات دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار کریں گے۔
ایرانی وفد میں صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر، نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر برائے شہری ترقی و ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، جبکہ پاکستانی وفد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ایف آئی اے، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔