اسٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس 2300 سے زائد پوائنٹس گرگیا
- کے ایس ای 100 انڈیکس 175,802.78 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو کاروبار کے دوران شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا جہاں 100 انڈیکس 2300 سے زائد پوائنٹس تک گر گیا۔
تفصیلات کے مطابق مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور دوران ٹریڈنگ 100 انڈیکس اپنی بلند ترین سطح 178,694.48 تک پہنچ گیا۔ تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی کیونکہ جلد ہی فروخت کنندگان مارکیٹ پر حاوی ہو گئے اور انہوں نے انڈیکس کو نیچے دھکیل دیا۔
سیشن کے پہلے ہاف کے دوران انڈیکس زیادہ تر 178,000 پوائنٹس کی حد کے آس پاس ہی گردش کرتا رہا لیکن دوپہر کے بعد اس میں اچانک بڑی مندی دیکھی گئی۔ سیشن کے دوسرے ہاف میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں بقیہ وقت کے دوران انڈیکس مسلسل نیچے گرتا رہا۔
کاروبار کے اختتام سے کچھ دیر قبل کے ایس ای 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 175,790.62 کو چھو گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2,320.78 پوائنٹس یا 1.30 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ 175,802.78 کی سطح پر بند ہوا۔
جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مسلسل دوسرے روز بھی تیزی رہی کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی ممکنہ پیش رفت سے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور خطرات مول لینے کے رجحان کو تقویت ملی، اس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 2,837.78 پوائنٹس یا 1.62 فیصد اضافے سے 178,123.57 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ایشیائی شیئرز مارکیٹ کا آغاز غیر یقینی رہا کیونکہ چِپ ساز کمپنیوں کے حصص میں دباؤ نے عالمی ایکویٹی مارکیٹوں کی کارکردگی کو متاثر کیا۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرنے کے باعث تیل کی قیمتیں گزشتہ تین ماہ کی سب سے بڑی ہفتہ وار بڑھوتری کی جانب گامزن رہیں۔
اس ہفتے سرمایہ کاروں نے بڑی بینکوں کے مضبوط مالی نتائج کے بعد اپنی سرمایہ کاری سیمی کنڈکٹر (چِپ ساز) کمپنیوں کے حصص سے نکال کر بینکاری سمیت دیگر شعبوں کی جانب منتقل کی جس کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں فروخت کے دباؤ کا زیادہ شکار رہیں کیونکہ ان کی چِپ ساز کمپنیوں میں سرمایہ کاری نسبتاً زیادہ ہے۔
ابتدائی ایشیائی کاروبار کے دوران ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں 0.06 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ جاپان کا نکئی انڈیکس 2.8 فیصد گرگیا۔
اسی دوران نیسڈیک فیوچرز میں 0.7 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.4 فیصد کمی دیکھی گئی۔
دوسری جانب یورپ کے یورو اسٹوکس 50 فیوچرز بھی 0.5 فیصد نیچے رہے۔
جنوبی کوریا میں جمعہ کو سرکاری تعطیل کے باعث مالیاتی بازار بند رہے۔ اس سے ایک روز قبل حکومت نے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کم کرنے کیلئے اعلان کیا تھا کہ مخصوص بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی نئی فہرست سازی (لسٹنگ) پر عارضی پابندی عائد کی جائے گی جبکہ ان مصنوعات میں سرمایہ کاری کرنے والے ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے کم از کم لازمی ڈپازٹ کی شرط بھی بڑھا دی جائے گی۔
اسی دوران جمعہ کو پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ مقامی کرنسی ایک پیسے کی بہتری کے ساتھ 277.96 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
دریں اثنا، آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم کم ہو کر 621.02 ملین حصص رہ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 736.95 ملین حصص تھا۔
شیئرز کی مجموعی مالیت بھی کم ہو کر 29.88 ارب روپے رہ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 34.61 ارب روپے تھی۔
سینرجیکو پی کے 86.49 ملین حصص کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار ہونے والا شیئر رہا، اس کے بعد ٹی پی ایل پراپرٹیز کے 62.54 ملین اور پاک ریفائنری کے 38.58 ملین حصص کا لین دین ہوا۔
جمعہ کو مجموعی طور پر 497 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں سے 101 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 367 میں کمی جبکہ 29 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔