اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس 500 سے زائد پوائنٹس گرگیا
- صبح 9 بجکر 35 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 177,562.67 پوائنٹس پر آگیا
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو ایک بار پھر فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 500 پوائنٹس سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔
صبح 9 بجکر 35 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 560.89 پوائنٹس یا 0.31 فیصد کی کمی سے 177,562.67 پوائنٹس پر آگیا۔
اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، او ایم سیز اور بجلی پیدا کرنے والے ادارے شامل ہیں۔ حبکو، ماری، پی او ایل ، پی پی ایل، ایم سی بی ، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک بھی منفی زون میں دکھائی دیے۔
جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مسلسل دوسرے روز بھی تیزی رہی کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی ممکنہ پیش رفت سے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور خطرات مول لینے کے رجحان کو تقویت ملی، اس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 2,837.78 پوائنٹس یا 1.62 فیصد اضافے سے 178,123.57 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ایشیائی شیئرز مارکیٹ کا آغاز غیر یقینی رہا کیونکہ چِپ ساز کمپنیوں کے حصص میں دباؤ نے عالمی ایکویٹی مارکیٹوں کی کارکردگی کو متاثر کیا۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرنے کے باعث تیل کی قیمتیں گزشتہ تین ماہ کی سب سے بڑی ہفتہ وار بڑھوتری کی جانب گامزن رہیں۔
اس ہفتے سرمایہ کاروں نے بڑی بینکوں کے مضبوط مالی نتائج کے بعد اپنی سرمایہ کاری سیمی کنڈکٹر (چِپ ساز) کمپنیوں کے حصص سے نکال کر بینکاری سمیت دیگر شعبوں کی جانب منتقل کی جس کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں فروخت کے دباؤ کا زیادہ شکار رہیں کیونکہ ان کی چِپ ساز کمپنیوں میں سرمایہ کاری نسبتاً زیادہ ہے۔
ابتدائی ایشیائی کاروبار کے دوران ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں 0.06 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ جاپان کا نکئی انڈیکس 2.8 فیصد گرگیا۔
اسی دوران نیسڈیک فیوچرز میں 0.7 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.4 فیصد کمی دیکھی گئی۔
دوسری جانب یورپ کے یورو اسٹوکس 50 فیوچرز بھی 0.5 فیصد نیچے رہے۔
جنوبی کوریا میں جمعہ کو سرکاری تعطیل کے باعث مالیاتی بازار بند رہے۔ اس سے ایک روز قبل حکومت نے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کم کرنے کیلئے اعلان کیا تھا کہ مخصوص بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی نئی فہرست سازی (لسٹنگ) پر عارضی پابندی عائد کی جائے گی جبکہ ان مصنوعات میں سرمایہ کاری کرنے والے ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے کم از کم لازمی ڈپازٹ کی شرط بھی بڑھا دی جائے گی۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے