پاکستان

حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ ذخیرہ اندوزی سے آگاہ کر دیا گیا

  • قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی توقعات کے باعث مارکیٹ میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے جمعرات کو حکومت کو ملک کے مختلف حصوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ ذخیرہ اندوزی سے آگاہ کیا، کیونکہ قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی توقعات کے باعث مارکیٹ میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔

یہ معاملہ جمعرات کو نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) کے اجلاس میں زیرِ غور آیا، جہاں ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی، سپلائی چین کی صورتحال اور قیمتوں کے رجحانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، اوگرا اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں اور ریگولیٹری حکام کے اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔ مختلف اداروں کی شرکت سے اس بات کا اظہار ہوا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور قیمتوں کے استحکام کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے، خاص طور پر بڑھتی ہوئی طلب اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر موجودہ طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہیں، تاہم جولائی کے پہلے پندرہ دنوں میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت میں غیر معمولی اضافے نے ریگولیٹرز اور صنعت سے وابستہ اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اوگرا کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات، خصوصاً پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی کھپت میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جو حکام کے مطابق صرف موسمی یا معاشی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر قیمتوں میں اضافے کی توقع پر کی جانے والی قیاس آرائیوں اور ذخیرہ اندوزی کا بھی شاخسانہ ہے۔

اجلاس سے آگاہ ذرائع کے مطابق ماضی میں بھی قیمتوں میں اضافے کی توقع کے پیشِ نظر ڈیلرز اور تقسیم کار زیادہ منافع حاصل کرنے کی غرض سے مصنوعات ذخیرہ کرتے رہے ہیں، جس کے باعث فروخت کے اعداد و شمار اچانک بڑھ جاتے ہیں۔

اوگرا نے اجلاس میں اپنی تجزیاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ خاص طور پر ریٹیل اور ڈسٹری بیوشن کی سطح پر ذخیرہ اندوزی کی جا رہی ہے۔ ریگولیٹر نے خبردار کیا کہ اگر ان سرگرمیوں کی بروقت روک تھام نہ کی گئی تو مارکیٹ کا توازن بگڑ سکتا ہے، مصنوعی قلت پیدا ہو سکتی ہے اور صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

او سی اے سی کے نمائندوں نے اجلاس کو سپلائی سے متعلق ابھرتے ہوئے مسائل، جن میں لاجسٹک رکاوٹیں، تقسیم کے نظام میں مشکلات اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو درپیش آپریشنل چیلنجز شامل ہیں، پر بھی بریفنگ دی۔

تاہم این سی ایم سی نے مشاہدہ کیا کہ او سی اے سی کی جانب سے اٹھائے گئے بیشتر خدشات کا تعلق سپلائی میں بنیادی کمزوریوں کے بجائے اچانک بڑھنے والی طلب سے ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ اگرچہ تیل کی سپلائی چین برقرار ہے، لیکن غیر معمولی کھپت تقسیم کے نظام پر دباؤ ڈال سکتی ہے اور عارضی عدم توازن پیدا کر سکتی ہے۔

او سی اے سی نے مؤقف اختیار کیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ملک بھر میں بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہیں، تاہم ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائی پر مبنی خریداری روکنے کے لیے ریگولیٹرز اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔

صورتحال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے این سی ایم سی نے اوگرا پر زور دیا کہ ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری روکنے کے لیے نگرانی اور نفاذ کا نظام مزید مؤثر اور فعال بنایا جائے۔

کمیٹی نے اوگرا کو ہدایت کی کہ ریفائنریوں، ڈپوؤں، تقسیم کاروں اور ریٹیل آؤٹ لیٹس سمیت سپلائی چین کے ہر مرحلے پر پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت، ذخیرہ اور فروخت کی سخت نگرانی کی جائے، جبکہ کسی بھی بے ضابطگی یا مشتبہ سرگرمی کی فوری تحقیقات کرکے ریگولیٹری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس کے علاوہ صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ زمینی سطح پر نگرانی مزید مؤثر بنائیں، اسٹاک کی حد مقرر کرنے سمیت ضروری معائنہ کریں اور ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

حکام نے اس بات پر زور دیا کہ پیٹرولیم جیسے حساس اور اہم شعبے میں مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026۔