ایران پر امریکی حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ خام تیل کے سودے 33 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
امریکا کی جانب سے ایران کی فوجی تنصیبات پر نئے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعرات کو مسلسل چوتھے روز بھی بڑھ گئیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بھرپور جنگ چھڑنے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
برینٹ خام تیل کے سودے 33 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 42 سینٹ یا 0.5 فیصد اضافے کے بعد 80.02 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں عالمی معیار بدھ کو بھی تقریباً 0.3 فیصد بڑھے تھے اور ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہیں۔
امریکا نے بدھ کو ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد ایرانی ساحلی دفاعی نظام اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ خطے سے توانائی کی مزید برآمدات روک سکتا ہے۔ تہران نے موجودہ صورتحال کو امریکا کے خلاف بقا کی جنگ قرار دیا ہے۔
نسان سیکیورٹیز انویسٹمنٹ کے چیف اسٹریٹجسٹ ہیرویوکی کیکوکاوا کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خریداری کے رجحان کو تقویت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پڑوسی ممالک ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں اور عمومی رائے یہ ہے کہ مکمل جنگ کا امکان کم ہے، تاہم صورتحال بگڑنے کی صورت میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 85 سے 87 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے بحیرہ احمر کے اہم باب المندب راستے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی مزید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ادھر سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیکس نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کی بحالی مزید تاخیر کا شکار رہی تو سال کی آخری سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، تاہم کشیدگی کم ہونے اور پیداوار میں تیزی سے بحالی کی صورت میں سال کے اختتام تک قیمتیں 60 ڈالر کی سطح تک واپس آ سکتی ہیں۔