ایران سے بڑھتے خدشات، بحیرۂ احمر کا بحری راستہ خطرے میں، تیل ایک فیصد سے زائد مہنگا
- برینٹ خام تیل کے سودے 93 سینٹ، یا 1.09 فیصد اضافے کے ساتھ 85.88 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
تیل کی عالمی قیمتوں میں جمعرات کو ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے متعلق جنگ کے دوران حملوں میں شدت آنے سے توانائی کی رسد کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے۔ اسی دوران تہران نے یمن کے حوثیوں سے کہا کہ وہ بحیرۂ احمر کے تیل بردار بحری راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔
برینٹ خام تیل کے سودے 93 سینٹ یا 1.09 فیصد اضافے کے ساتھ 85.88 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے سودے 89 سینٹ یا 1.12 فیصد بڑھ کر 80.49 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔
ایکسنیس کے مالیاتی منڈیوں کے چیف اسٹریٹجسٹ وائل مکارم نے کہا، ”اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں راستوں پر بیک وقت رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو سپلائی چین پر دباؤ نمایاں طور پر بڑھ جائے گا، تیل بردار جہازوں کی دستیابی مزید محدود ہو جائے گی اور بحری انشورنس کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا۔“
تین ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے یمن کی حوثی تحریک سے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو وہ بحیرۂ احمر کے تیل بردار بحری راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہے۔ اس پیش رفت سے عالمی توانائی کی رسد کو ایک سنگین نئے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
باب المندب کی آبنائے، جو بحیرۂ احمر کا مرکزی داخلی راستہ ہے، اگر بند ہوتی ہے تو توانائی کے بحران اور ایران و امریکہ کے وسیع تر تصادم میں ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق جون میں باب المندب سے روزانہ 74 لاکھ بیرل پیٹرولیم مصنوعات گزریں، جو عالمی یومیہ تیل پیداوار کا تقریباً 7 فیصد بنتی ہیں۔ یہ مقدار گزشتہ سال کے 42 لاکھ بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔
امریکہ نے بدھ کو ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد اس کے ساحلی دفاعی نظام اور میزائل تنصیبات پر حملے کیے، جبکہ تہران نے خطے سے توانائی کی مزید برآمدات روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے خلاف ”بقا کی جنگ“ لڑ رہا ہے۔
یہ کشیدگی جون میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے ایک بار پھر مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل اس آبی گزرگاہ سے دنیا کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے اگلے ہی روز، بدھ کو، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی کم ہو گئی۔ بدھ کو صرف 7 جہاز اس راستے سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 13 تھی۔
ایس ای بی ریسرچ کے مارکیٹ تجزیہ کار اولے ہوالبیے نے کہا، ”یہ توقع کرنا معقول ہے کہ تیل کی قیمتیں 90 سے 95 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، بلکہ دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی چھو سکتی ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز میں بار بار رکاوٹیں پیدا ہونے سے خلیجی خطے سے تیل کی رسد کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔“
دوسری جانب رسد میں اضافے کے آثار بھی نظر آئے۔ کپلر کے اعداد و شمار اور تیل کی ترسیل سے واقف ایک ذریعے کے مطابق، جولائی کے پہلے نصف میں عراق سے خام تیل کی لوڈنگ دوگنی سے بھی زیادہ ہو کر اوسطاً 12 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی، کیونکہ کئی ماہ تک محدود رہنے کے بعد برآمدات میں تیزی آ گئی۔