رائے

بیانیہ مارکیٹ کے بارے میں تاثر قائم کر سکتا ہے

  • کوئی بھی بیانیہ وقتی طور پر لوگوں کو قائل کر سکتا ہے، مگر جب ان کی آمدنی کی حقیقی قدر مسلسل گھٹتی رہے تو پُرجوش حامی بھی اپنی حمایت واپس لے لیتے ہیں۔
شائع اپ ڈیٹ

یہ نظریہ کہ منڈیاں طلب اور رسد کے باہمی توازن کے ذریعے، جو کسی بھی شے کی قیمت کا تعین کرتا ہے، خودبخود توازن کی کیفیت تک پہنچ جاتی ہیں، اس بنیاد پر چیلنج کیا جا سکتا ہے کہ بیانیہ بھی منڈی پر اثرانداز ہو کر اسے اپنی سمت میں موڑ سکتا ہے۔ ایسا یا تو اس وقت ہوتا ہے جب منڈی زمینی حقائق کو جائز طور پر غلط سمجھ بیٹھتی ہے، یا پھر جان بوجھ کر کسی بیانیے کی غلط تشریح کر کے اس کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔

28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے تیل کی منڈی پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کا سلسلہ بار بار دیکھا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر ایسے بیانات جاری کرتے رہے جن کا وقت اس انداز سے منتخب کیا جاتا تھا کہ پیر کے روز منڈی پر براہِ راست اثر پڑے۔

اس طرزِ عمل نے تیل کی منڈی میں کام کرنے والوں کی بظاہر سادہ لوحی پر حقیقی حیرت پیدا کی، جو صدر کے ایک دوسرے سے متضاد بیانات کو بار بار درست مانتے رہے۔ کبھی وہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی ایسی تشریح پیش کرتے جو ایران کی تشریح سے بالکل مختلف ہوتی، کبھی ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیتے، اور پھر وقفے وقفے سے ایران پر حملے کیے جاتے جن کے بعد ایران کی جوابی کارروائیاں سامنے آتیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو منڈی پر اثرانداز ہونے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ ممکن ہے انہوں نے دو حوالوں سے غلط اندازہ لگایا ہو: اول، توانائی کی عالمی منڈی کے باہمی ربط کو پوری طرح نہ سمجھنا، یعنی یہ ادراک نہ کرنا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے نتیجے میں عالمی رسد میں پیدا ہونے والی کمی امریکا میں گیس کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالے گی، حالانکہ امریکا خود ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے؛ اور دوم، اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت (انسائیڈر ٹریڈنگ)، خواہ دانستہ ہو یا غیر دانستہ، جو انہیں اپنے قریبی حلقے کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کی زد میں لا سکتی ہے۔

جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد امریکا کے پاس تیل کے بڑے ذخائر موجود تھے، تاہم اب جبکہ یہ جنگ اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، ان ذخائر میں خطرناک حد تک کمی آنے لگی ہے، جس سے معاشی کساد بازاری کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اس صورتحال نے عام امریکیوں، حتیٰ کہ صدر ٹرمپ کے حامیوں کو بھی ناراض کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ امکان ہے کہ اس کے اثرات 6 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات پر بھی مرتب ہوں گے۔

ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، جبکہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر دوبارہ انتخاب ہوگا۔

موجودہ جائزوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی 140 نشستیں محفوظ سمجھی جا رہی ہیں، 55 مزید نشستیں جیتنے کا امکان ہے، جبکہ اس کی موجودہ 45 نشستوں پر مقابلہ سخت رہنے کی توقع ہے اور وہ کسی بھی جماعت کے حصے میں جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی 182 نشستیں محفوظ تصور کی جا رہی ہیں، 10 مزید نشستیں جیتنے کی توقع ہے، جبکہ اس کی موجودہ صرف 3 نشستوں پر سخت مقابلے کا امکان ہے۔

سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی 4 نشستیں محفوظ ہیں، ایک مزید نشست جیتنے کی توقع ہے، جبکہ 4 نشستوں کے نتائج غیر یقینی ہیں۔ اس کے برعکس ڈیموکریٹس کی 18 نشستیں محفوظ ہیں، 6 مزید نشستیں جیتنے کا امکان ہے، جبکہ 6 نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ہے۔

اگر موجودہ اندازوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے (امپیچمنٹ) کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے، جس کے خدشے کا وہ خود بھی عوامی سطح پر اعتراف کر چکے ہیں۔

یہ الزامات زور پکڑ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدوں یا حملوں سے متعلق بیانات چند مخصوص تاجروں کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ اس وقت کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن مبینہ غیر معمولی تجارتی سرگرمیوں کی تحقیقات کر رہا ہے، جن کا حجم تازہ اندازوں کے مطابق 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

تاہم یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جب صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کا اعلان کرتے ہیں تو تیل کی قیمتوں میں کمی بنیادی طور پر فیوچرز مارکیٹ تک محدود رہتی ہے، جس کا اثر ابھی تک پٹرول پمپوں پر فروخت ہونے والے ایندھن کی قیمتوں پر نہیں پڑا۔ اس تناظر میں پاکستان میں عوام کی جانب سے حکومت سے فوری طور پر پٹرول کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ قبل از وقت معلوم ہوتا ہے، الاّ یہ کہ ملک کو رعایتی نرخوں پر درآمدی تیل دستیاب ہو۔

مسلسل سامنے آنے والے سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چونکہ پٹرول پمپوں پر قیمتیں کم نہیں ہوئیں، اس لیے امریکی عوام صدر ٹرمپ کے اس بیانیے کو قبول نہیں کر رہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب تک لوگوں کی آمدنی کی حقیقی قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی رہے، وہ کسی بھی بیانیے کی صداقت پر آسانی سے یقین نہیں کرتے۔

پاکستان میں بھی عوام حکومت کے اس دعوے سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے کہ مہنگائی میں کمی آ گئی ہے، اگرچہ ہمارے ہاں صورتِ حال یہ ہے کہ بیانیے کے ساتھ ساتھ اعدادوشمار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سرکاری بیانیہ یہ ہے کہ معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس کا ثبوت اسٹاک مارکیٹ کی غیر معمولی تیزی ہے۔ تاہم، چونکہ پاکستان کی ایک فیصد سے بھی کم آبادی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتی ہے، اس لیے موجودہ وزیرِ خزانہ سمیت مختلف وزرائے خزانہ کی جانب سے تیزی کا شکار اسٹاک مارکیٹ کو اپنی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت قرار دینا مضبوط بنیادوں پر مبنی استدلال نہیں۔

اس مؤقف کو متعدد تحقیقی مطالعات بھی تقویت دیتے ہیں، جن میں حسین اور طارق محمود کی تحقیق قابلِ ذکر ہے۔ ان کے مطابق ”پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کا ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اسے معاشی سرگرمیوں کا پیشگی اشاریہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اور اگر دیگر مضبوط معاشی اشاریے موجود نہ ہوں تو حصص کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ محض ایک قیاس آرائی پر مبنی بلبلے یعنی غیر حقیقی توقعات کے نتیجے میں قیمتوں میں آنے والا ناپائیدار اضافہ( اسپیکیولیٹیو ببل) کی علامت ہو سکتا ہے۔“

تجرباتی مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر بروکرز کے ایک باہم مربوط اور بااثر گروہ کا غلبہ ہے، جو مارکیٹ کے رجحانات پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بالخصوص ایسے مواقع پر، جب موجودہ وزیرِ خزانہ شدید تنقید کی زد میں ہوں، اسٹاک مارکیٹ میں اچانک تیزی آنے کے باعث ناقدین یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ حکومت کا اصل دباؤ اس دھمکی میں پوشیدہ ہے کہ وہ مارکیٹ پر مزید ٹیکس عائد کر سکتی ہے۔

اس وقت لسٹڈ سیکیورٹیز پر فائلرز کے لیے 15 فیصد جنرل سیلز ٹیکس اور نان فائلرز کے لیے 30 فیصد شرح مقرر ہے، تاہم حقیقی لین دین اور سرمایہ جاتی منافع (کیپیٹل گین) پر عائد ٹیکس کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ مثال کے طور پر بھارت میں ہر خرید و فروخت پر سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس (ایس ٹی ٹی) وصول کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایل ٹی سی جی) اور قلیل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایس ٹی سی جی) پر بھی الگ ٹیکس عائد ہوتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اکتوبر 2024 کی اپنی رپورٹ میں ان اعدادوشمار میں موجود اہم خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک تہائی حصے کو متاثر کرتی ہیں۔ اس مؤقف کی تائید آزاد ماہرینِ معاشیات نے بھی کی، جس کے بعد ادارۂ شماریات پاکستان کو تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ مہنگائی کے اعدادوشمار میں رد و بدل سے عوام مطمئن نہیں ہوتے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی بیانیہ وقتی طور پر کچھ لوگوں کو قائل کر سکتا ہے، لیکن اگر لوگوں کو مسلسل اپنی آمدنی کی حقیقی قدر میں کمی محسوس ہوتی رہے تو پُرجوش حامی بھی رفتہ رفتہ اپنی حمایت واپس لے لیتے ہیں۔ مہنگائی ایسا معاشی اشاریہ ہے جس کے اثرات ہر گھرانے کو اس وقت فوری محسوس ہوتے ہیں جب وہ روزمرہ استعمال کی کوئی چیز یا خدمت خریدنے بازار جاتا ہے۔

اس سے حاصل ہونے والا سبق یہ ہے کہ حکومتی کامیابیوں کے دعوے ایسے اعدادوشمار سے تقویت پانے چاہییں جو عوام کو درپیش زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026