سابق قطری امیر کے انتقال پر تعزیت کے لیے وزیر اعظم دوحہ پہنچ گئے
- قطری امیر کا ذاتی طور پر تعزیت کے لیے دوحہ آمد پر پاکستانی وفد سے اظہارِ تشکر
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دوحہ کا ایک روزہ دورہ کیا، تاکہ قطر کے سابق امیر مرحوم شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے قطر کی قیادت اور عوام سے ذاتی طور پر دلی تعزیت کا اظہار کیا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
دوحہ میں وزیر اعظم اور پاکستانی وفد نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی اور قطر کے سابق امیر کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے مرحوم سابق امیر کی بصیرت افروز قیادت، مدبرانہ صلاحیتوں اور قطر کی شاندار تبدیلی کے ساتھ ساتھ علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے لیے ان کی لازوال خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے قطری امیر کی پاکستان کے لیے گرمجوشی، مہربانی اور مستقل محبت اور برسوں کے دوران ملک کے ان کے متعدد یادگار دوروں کو گہری تعریف کے ساتھ یاد کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس شدید غم کے وقت میں قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی مستقل یکجہتی کا اعادہ کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور شاہی خاندان اور قطری قوم کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنے کی ہمت دے۔
قطری امیر نے ذاتی طور پر تعزیت کے لیے دوحہ آنے کے اس خصوصی اقدام پر وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزیراعظم نواز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفد کا شکریہ ادا کیا اور اسے دونوں برادر ممالک اور عوام کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کا عکاس قرار دیا۔
قبل ازیں دوحہ ایئرپورٹ پہنچنے پر قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن بن علی الثانی نے پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔
ایک روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے شیخ حمد کے انتقال پر پیر کو پاکستان میں یوم سوگ منانے کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے کابینہ ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ حکومت پاکستان اور اس کے عوام کی جانب سے قطر کے شاہی خاندان، حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور تعزیت کے طور پر کیا گیا ہے۔ شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کے انتقال پر پیر 13 جولائی 2026 کو ملک بھر میں یوم سوگ منایا جائے گا۔ ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
قطر کے سابق امیر، جنہوں نے ملک کو ایک علاقائی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اتوار کو 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ امیری دیوان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اتوار کی صبح والدِ امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کا انتقال ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی روح پر رحم فرمائے اور وطن و قوم کے لیے ان کی خدمات کا بہترین اجر عطا کرے۔
شیخ حمد نے 1995 سے 2013 تک قطر پر حکومت کی اور پھر اقتدار اپنے بیٹے شیخ تمیم کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک اور 2022 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کے ذریعے قطر کا عالمی پروفائل بلند کیا۔امریکہ کا اتحادی یہ ملک 25 لاکھ سے زائد آبادی کے ساتھ چھوٹا ضرور ہے لیکن یہ دنیا میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا سب سے بڑا برآمد کنندہ، عالمی سرمایہ کاری کا مرکز اور مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری اور بین الاقوامی میڈیا کا ایک اہم کھلاڑی ہے۔
شیخ حمد نے جون 2013 میں اقتدار اپنے بیٹے (جو اس وقت ولی عہد تھے) کے سپرد کر دیا تھا، جو کہ خلیجی عرب ممالک کے موروثی حکمرانوں میں اقتدار سے دستبرداری کی ایک نادر مثال تھی، تاکہ پرامن طور پر جانشینی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خود 1995 میں ایک بغیر خون خرابے کی بغاوت (بلڈ لیس کو) کے ذریعے اپنے والد کا تختہ الٹ کر اقتدار حاصل کیا تھا۔