امریکا کا ایران کے 140 فوجی اہداف پر حملوں کا دعویٰ
- تازہ حملوں میں ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری عسکری صلاحیتیں، اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز، مواصلاتی نیٹ ورک اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج نے ایران کے خلاف ایک ہفتے کے دوران تیسرے مرحلے کے فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہفتے کے روز ایران کے تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تین روز کے دوران مجموعی طور پر 300 سے زائد اہداف پر حملے کیے گئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ تازہ حملوں میں ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری عسکری صلاحیتیں، اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز، مواصلاتی نیٹ ورک اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام کے مطابق ہفتے کے روز کیے گئے حملے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ہونے والے حملے کے جواب میں کیے گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے باوجود اس اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔
امریکی حملے اس وقت کیے گئے جب چند گھنٹے قبل ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے غیر منظور شدہ راستے سے گزرنے والے ایک جہاز پر وارننگ شاٹ فائر کرنے کے بعد آبنائے ہرمز بند کر دی ہے۔ تہران نے خبردار کیا کہ اس واقعے پر کسی بھی جوابی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے متاثرہ جہاز کی شناخت ایم/وی جی ایف ایس گلیکسی کے نام سے کی، جو قبرص کے پرچم تلے چلنے والا ایک کنٹینر بردار جہاز ہے۔ امریکی حکام کے مطابق حملے میں جہاز کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ عملے کا ایک شہری رکن لاپتا ہے۔
امریکی فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔