✕
مارکٹس

مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی کے خطرات برقرار، خام تیل کی قیمتوں میں ہفتہ وار اضافے کا رجحان

  • برینٹ کروڈ کے سودوں میں 24 سینٹس کا اضافہ، قیمت 76.54 ڈالر فی بیرل ہو گئی
شائع اپ ڈیٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان فضائی جھڑپوں اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت معطل ہونے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

برینٹ خام تیل کے سودے 24 سینٹس (0.3 فیصد) اضافے کے ساتھ 76.54 ڈالر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 9 سینٹس بڑھ کر 72.17 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ اس اضافے کے ساتھ برینٹ کروڈ رواں ہفتے مجموعی طور پر 6 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی 5 فیصد مہنگا ہوا ہے۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے سپلائی تقریباً رک جانے کے باعث مارکیٹ میں پائے جانے والے شدید خطرات قیمتوں کو اوپر لے جا رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں نے جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق قطری مذاکرات کاروں کی تہران آمد اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی خبروں کے بعد قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کچھ تھم گیا۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اسٹرٹیجک علاقوں بشمول بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب دھماکوں کی بھی اطلاع دی ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کا کہنا ہے کہ اس نئی کشیدگی کے باعث اگلے سال مارکیٹ میں تیل کی وافر فراہمی (سرپلس) کا امکان ختم ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ جنگ سے پہلے دنیا کی 20 فیصد گیس اور تیل کی سپلائی اسی آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی تھی۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کہ یہ جنگ طویل نہیں کھچے گی اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے فیصلے نے مارکیٹ کو کچھ حوصلہ بھی دیا ہے۔ متبادل مانیٹرنگ کے مطابق یوکرین کے حملوں کی وجہ سے روس کی تیل کی پیداوار میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔