دنیا

ٹرمپ کا ایران کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان

  • یہ لوگ بیمار ذہنیت کے حامل ہیں، میرے نزدیک ان سے معاملات کرنا محض وقت کا ضیاع ہے، امریکی صدر
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ میرے خیال میں ایران کے ساتھ ایم او یو اب ختم ہو چکا ہے، اب تہران کے ساتھ بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا عبوری جنگ بندی معاہدہ مستقل معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مہلت فراہم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا، تاہم قطر میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے جس کے بعد امریکا نے منگل کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی۔

ٹرمپ نے ترک دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ میں اب ان سے کوئی معاملہ نہیں کرنا چاہتا۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کی موجودگی میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ لوگ بیمار ذہنیت کے حامل ہیں اور ان کی قیادت بھی بیمار ذہن رکھنے والے لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ میرے نزدیک ان سے معاملات کرنا محض وقت کا ضیاع ہے۔

امریکہ نے منگل کو ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا لائسنس بھی منسوخ کردیا، یہ اقدام آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز پر میزائل حملوں کے بعد کیا گیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے تحت امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی نژاد خام تیل، پیٹرو کیمیکل اور پیٹرولیم مصنوعات کی 21 اگست تک فروخت کی اجازت دینے کے لیے ایک لائسنس جاری کیا تھا۔ منگل کو اس لائسنس کو منسوخ کرتے ہوئے امریکہ نے ایران کو تمام لین دین سمیٹنے کے لیے 17 جولائی تک کا وقت دیا ہے۔