مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی، ایران کے بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات پر حملے
- کارروائی میں مداخلت کی کوشش کرنے والے ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو بھی مار گرایا گیا، پاسدارانِ انقلاب
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے جواب میں ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے بعد کی گئی۔
نازک جنگ بندی معاہدے کو ایک اور دھچکا دیتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین کے بندر سلمان میں امریکی فوجی تنصیبات، امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر اور کویت کے علی السالم ایئر بیس پر میزائلوں اور ڈرونز کے مشترکہ حملے کیے۔ آئی آر جی سی کے مطابق کارروائی میں مداخلت کی کوشش کرنے والے ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو بھی مار گرایا گیا۔
بحرین اور کویت میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے اور کویتی فوج نے بتایا کہ ان کا فضائی دفاعی نظام دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ان حملوں پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
اس سے قبل امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تین ٹینکروں پر حملوں کے جواب میں، ایران پر نئے فوجی حملے کیے ہیں اور ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا لائسنس بھی منسوخ کردیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران اسلامی پاسداران انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق اس آپریشن کا مقصد جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بحری جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایران کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنا تھا۔
سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی افواج کی طرف سے بلا جواز جارحیت جنگ بندی کی ایک واضح اور خطرناک خلاف ورزی ہے اور یہ بحری آمد و رفت کی آزادی کو نقصان پہنچاتی ہے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے انقرہ میں نیٹو رہنماؤں کے اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے نئے حملے بالکل ضروری تھے۔
مارک روٹے نے کہا کہ جب آپ کے پاس جنگ بندی کا معاہدہ موجود ہو اور ایران بنیادی طور پر اس کی خلاف ورزی کررہا ہو تو میرے خیال میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ امریکہ بھرپور ردعمل ظاہر کرے۔
ایران کی اعلیٰ مشترکہ عسکری کمانڈ خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز نے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی جارحیت قرار دیا، تباہ کن ردعمل کی دھمکی دی اور خبردار کیا کہ تہران آبنائے ہرمز کے انتظامی امور میں امریکی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
باقر قالیباف نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ دھونس، دھمکی اور زبردستی کا دور ختم ہو چکا ہے، ہم کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔