پاکستان

امریکا کا ایران پر حملوں کا نیا مرحلہ مکمل، 80 سے زائد اہداف نشانہ بنائے گئے

  • یہ اقدام آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر نامعلوم گولہ باری کے بعد کیا گیا۔
شائع اپ ڈیٹ

امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کو کہا ہے کہ اس نے ایران پر حملوں کا ایک نیا مرحلہ مکمل کر لیا ہے، جس کے دوران 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران پر تازہ حملوں کے ساتھ ہی واشنگٹن نے ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا لائسنس بھی منسوخ کر دیا، یہ اقدام آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر نامعلوم گولہ باری کے بعد کیا گیا۔

امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی ریڈار تنصیبات، جہاز شکن میزائل صلاحیتوں، اور آبنائے ہرمز میں اور اس کے اطراف موجود اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا، تاکہ ایران کی بین الاقوامی تجارتی راہداری سے گزرنے والی عالمی تجارت پر حملے جاری رکھنے کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سینٹ کام کی افواج پوری طرح تیار اور الرٹ ہیں اور اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی یا اس پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو ایران کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے تیار رہیں گی۔

دوسری جانب ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیں گی۔ ایرانی حکام نے واشنگٹن پر کھلی جارحیت کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ تہران آبنائے ہرمز کے انتظام میں امریکی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔

ایران جنگ بندی کو اب بھی غیر مستحکم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ جنگ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

جنگ کے دوران ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں، جبکہ لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس تنازع نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔