صنعتی بجلی ٹیرف میں تضاد دور کیا جائے، کاٹی
- بی تھری اور بی فور کیٹیگریز صنعتی صارفین کا صرف 1.2 فیصد ہیں، اکرام راجپوت
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے وزیراعظم، وفاقی وزیر خزانہ اور وفاقی وزیر توانائی سے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتی بجلی کے بی تھری (B3) اور بی فور (B4) ٹیرف میں موجود اوور چارجنگ کو فوری طور پر درست کرنے کے لیے نیپرا کو ہدایات جاری کی جائیں.
انہوں نے کہا کہ نیپرا کے کاسٹ آف سروس اصول کے مطابق زیادہ وولٹیج پر بجلی لینے والے صارفین کے لیے ٹیرف کم ہونا چاہیے، تاہم موجودہ نظام میں بی تھری اور بی فور صارفین سے ان کی اصل لاگت سے زیادہ وصولیاں کی جا رہی ہیں جو نیپرا کے اپنے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
اکرام راجپوت نے مزید کہا کہ بی تھری اور بی فور کیٹیگریز صنعتی صارفین کا صرف 1.2 فیصد ہیں لیکن مجموعی صنعتی بجلی کا 59.3 فیصد استعمال کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غلط قیمت گزاری کے باعث ان دونوں کیٹیگریز پر سالانہ تقریباً 55 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے جبکہ 3.23 روپے فی یونٹ پی ایچ ایل سرچارج نے صنعت پر مزید مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اس اوور چارجنگ کو دور کرنے کے لیے کسی نئی سبسڈی کی ضرورت نہیں، بلکہ بی ون سے بی فور صنعتی صارفین کے اندر ریونیو نیوٹرل بنیاد پر ٹیرف میں اصلاح کی جا سکتی ہے۔
صدر کاٹی نے کہا کہ اگرچہ صنعتی بجلی کے نرخوں میں حالیہ کمی خوش آئند ہے، تاہم پاکستان کی برآمدی صنعت کو علاقائی سطح پر مسابقتی بنانے کے لیے مؤثر صنعتی ٹیرف 9 امریکی سینٹ فی یونٹ سے کم ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں درآمدات 69.6 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، ایسے میں مقامی صنعت کو سستی بجلی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ اور درآمدی متبادل صنعتوں کو فروغ مل سکے۔
اکرام راجپوت نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ وزارت توانائی اور نیپرا کو فوری ہدایات جاری کی جائیں تاکہ کاسٹ آف سروس کے اصول کے مطابق ٹیرف کی اصلاح کی جائے، غیر ضروری ڈسٹری بیوشن اخراجات ختم کیے جائیں اور صنعتی بجلی کا مؤثر نرخ بلا تاخیر 9 سینٹ فی یونٹ سے کم کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026