مارکٹس

آبنائے ہرمز سے سپلائی بحال نہ ہونے پر پاکستان نے مزید مہنگی ایل این جی خرید لی، رپورٹ

  • پاکستان ایل این جی کے لیے دگنی قیمت دینے پر مجبور، اہم ترین آبنائے ہرمز میں تعطل سے گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے
شائع اپ ڈیٹ

بلومبرگ نے رپورٹ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے قطر سے گیس کی سپلائی معطل رہنے کے باعث پاکستان نے رواں ہفتے کے آخر میں ترسیل کے لیے ایل این جی کا ایک کارگو خریدا ہے جس کی قیمت قطری معاہدوں کے مقابلے میں لگ بھگ دوگنی ہے۔

معاملے سے باخبر تاجروں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹوٹل انرجیز نے سرکاری ملکیتی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کو 10 سے 11 جولائی کی ترسیل کے لیے 17.37 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ کے حساب سے کارگو فروخت کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کھیپ جمعہ کو ختم ہونے والے ایک ٹینڈر کے ذریعے خریدی گئی۔

آبنائے ہرمز عمان اور ایران کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ہے، جو شمال میں خلیجِ فارس کو جنوب میں بحیرہ عرب اور خلیجِ عمان سے جوڑتی ہے۔ حالیہ تنازعات سے پہلے، دنیا بھر کی خام تیل اور ایل این جی کی کل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اور دیگر اہم اشیاء جیسے کہ کھاد، میتھانول اور گندھک (سلفر) کا ایک بڑا حصہ اسی اہم ترین راستے سے گزرتا تھا۔

بلومبرگ کا کہنا ہے کہ یہ خریداری دو ہفتوں کے دوران پاکستان کی جانب سے اسپاٹ مارکیٹ سے گیس کی دوسری خریداری ہے، کیونکہ اسلام آباد خلیجِ فارس میں پھنسی ہوئی قطر کی منسوخ شدہ سپلائی کا متبادل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سے قبل مئی کے اوائل میں پی ایل ایل نے اسی مہینے کے آخر میں ترسیل کے لیے ایل این جی کے دو کارگو ز کے لیے بولیاں طلب کی تھیں۔ بولیاں موصول تو ہوئیں لیکن پیشکشوں کو اس امید پر مسترد کر دیا گیا تھا کہ علاقائی کشیدگی میں کمی سے اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں اور قطر کی رکی ہوئی سپلائی دوبارہ بحال ہو جائے گی۔ ابتدائی بولیوں کو مسترد کرنے کے بعد پی ایل ایل نے ایل این جی کے مزید دو کارگوز کے لیے ایک نیا ٹینڈر جاری کیا، جن کی ترسیل کی مدت 12 سے 16 مئی اور 24 سے 28 مئی مقرر کی گئی تھی۔