دنیا

'جلد بازی میں حاصل کیے گئے غیر ملکی اعزازات' سے مودی کی اندرونِ ملک سیاسی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش، رپورٹ

  • امیج مینجمنٹ کی حکمت عملی آخرکار شرمندگی کا باعث بنتی ہے، عطاء اللہ تارڑ
شائع اپ ڈیٹ

برطانوی اخبار دی گارڈین نے ایک مضمون میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں کے دوران مختلف ممالک کی جانب سے دیے جانے والے اعزازات اور ایوارڈز کی حقیقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

مضمون میں اشارہ دیا گیا ہے کہ مودی کو دیے گئے بعض اعزازات عجلت میں تیار کیے گئے یا ان کی کوئی باقاعدہ ادارہ جاتی تاریخ موجود نہیں تھی۔ مثال کے طور پر، حال ہی میں سیشلز کی جانب سے دیا گیا ایک اعزاز مودی کی آمد سے محض تین روز قبل ہی متعارف کرایا گیا، جس میں نمایاں املا کی غلطیاں موجود تھیں اور دستاویز میں ایسے شواہد بھی پائے گئے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ اسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ اسی طرح اس سے قبل اسرائیلی پارلیمنٹ نے بھی مودی کے دورے سے چند روز پہلے ہی ایک نیا تمغہ متعارف کرایا تھا۔

مضمون کے مطابق ایسے اعزازات جمع کرنے کے پیچھے بظاہر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وزیراعظم مودی کی اندرونِ ملک سیاسی ساکھ کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تاثر کو فروغ دیا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں انہیں ملنے والے اعزازات دراصل بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ اور ان کی ذاتی قیادت و عظمت کا اعتراف ہیں، تاکہ ملکی عوام اور ووٹرز کے سامنے یہی بیانیہ مضبوط کیا جا سکے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے آخر میں سیشلز پہنچتے ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اس جزیرہ نما ملک کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک ”گارڈین آف دی بلیو ہورائزن“ سے نوازا گیا۔ سیشلز کے صدر پیٹرک ہرمنی نے مودی کو ٹرافی اور سند پر مشتمل یہ اعزاز پیش کیا۔

تاہم سوشل میڈیا صارفین نے جلد ہی اس اعزاز سے متعلق کئی غیر معمولی باتوں کی نشاندہی کی۔ اعزاز کے ساتھ دیے گئے سرٹیفکیٹ میں نمایاں املا کی غلطیاں تھیں، جن میں ”Republic“ اور ”Seychelles“ جیسے الفاظ بھی غلط لکھے گئے تھے۔ مزید یہ کہ یہ اعزاز مودی کے دورے سے محض تین روز قبل ہی متعارف کرایا گیا تھا، جس کے باعث وہ اس کے پہلے اور اب تک واحد وصول کنندہ بن گئے۔

بعد ازاں تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ڈیجیٹل تجزیے میں یہ اشارہ ملا کہ مذکورہ سرٹیفکیٹ غالباً مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ اس معاملے پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی ہر وہ اعزاز قبول کرنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں جو انہیں پیش کیا جائے۔ پارٹی نے کہا، ”مودی کو کوئی بھی ایوارڈ دے دیں، وہ فوراً لینے پہنچ جائیں گے۔“

کانگریس کی رہنما سپریا شرینیت نے سوشل میڈیا پر لکھا، ”اتنی جلدی تھی کہ سیشلز جمہوریہ کا سرکاری نام تک درست نہیں لکھ سکے۔“

اس تنقید کے جواب میں مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے اس اعزاز کو ملک کے لیے باعثِ فخر لمحہ قرار دیا اور کہا کہ یہ ماحول دوست پالیسیوں کے حوالے سے وزیراعظم مودی کی قیادت کا عالمی اعتراف ہے۔

بعد ازاں سیشلز کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ غلطی سے ایک غیر حتمی ورکنگ ڈرافٹ تقسیم ہو گیا تھا، جبکہ اس کے بعد باقاعدہ منظوری یافتہ اور درست شدہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ ”گارڈین آف دی بلیو ہورائزن“ ایک حقیقی اور باقاعدہ اعزاز ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اپنے بارہ سالہ دورِ اقتدار میں نریندر مودی نے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک اعزازات جمع کرنے میں غیر معمولی دلچسپی دکھائی ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ ماہ اسرائیل کے دورے سے چند روز قبل اسرائیلی پارلیمنٹ نے عجلت میں ”میڈل آف دی کنیسٹ“ کے نام سے ایک نیا اعزاز متعارف کرایا، جو مودی کو ان کی آمد پر پیش کیا گیا، اور وہ اب تک اس کے واحد وصول کنندہ ہیں۔

اسی نوعیت کی ایک مثال 2019 میں بھی سامنے آئی، جب مودی کو فلپ کوٹلر پریزیڈنشل ایوارڈ کا پہلا وصول کنندہ قرار دیا گیا۔ اگرچہ سرکاری طور پر کہا گیا تھا کہ یہ اعزاز ہر سال کسی عالمی رہنما کو دیا جائے گا، تاہم اس کے بعد یہ ایوارڈ کسی اور شخصیت کو نہیں دیا گیا، جبکہ اس کی سرکاری ویب سائٹ بھی غیر فعال ہو چکی ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران مودی کو ایتھوپیا کا ”گریٹ آنر نشان“ اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کا ”آرڈر آف دی ریپبلک“ بھی دیا گیا، اور وہ ان دونوں اعزازات کے پہلے غیر ملکی سربراہِ مملکت بنے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارتی قیادت کی ایسے اعزازات حاصل کرنے کی غیر معمولی خواہش بھارت میں ”مصنوعی وقار“ کی سیاست سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا، ”جب کسی غیر ملکی اعزاز کو کسی دورے سے چند روز قبل ہی تخلیق کیا جائے، اس کے سرٹیفکیٹ میں معمولی املا کی غلطیاں موجود ہوں اور اسے حاصل کرنے والا شخص اس کا پہلا اور واحد وصول کنندہ ہو، تو امیج مینجمنٹ کی حکمت عملی خود شرمندگی کا باعث بن جاتی ہے۔“

انہوں نے کہا، ”برسوں سے بی جے پی ایسے اعزازات کو بھارت کی عالمی پذیرائی کا ثبوت بنا کر پیش کرتی رہی ہے، حالانکہ ملک کے اندر وہ نفرت پر مبنی پالیسیوں کو فروغ دے رہی ہے۔“

تارڑ نے مزید کہا کہ اب یہ تضاد چھپانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، ایک طرف مودی بیرونِ ملک علامتی اعزازات سمیٹ رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بھارت کے عوام اندرونِ ملک سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب، اگرچہ ناقدین ان واقعات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تاہم حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا مؤقف ہے کہ یہ اعزازات محض وزیراعظم مودی کے بلند عالمی مقام اور بین الاقوامی پذیرائی کا اظہار ہیں۔