کاروبار اور معیشت

بینکس قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر اکاؤنٹس بلاک نہ کریں، اسٹیٹ بینک کی ہدایت

  • جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل سنگل بینچ کے سامنے تعمیلی رپورٹ پیش
شائع July 1, 2026 اپ ڈیٹ July 1, 2026 01:57pm

اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بغیر کسی قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور مناسب تصدیق کے بغیر صارفین کے بینک اکاؤنٹس بلاک نہ کریں۔

جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل سنگل بینچ کے سامنے ایک تعمیلی رپورٹ پیش کی گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک بھر کے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی صارف کا اکاؤنٹ اس وقت تک بلاک نہ کیا جائے جب تک اس کے لیے قانونی جواز موجود نہ ہو، متعلقہ مجاز اتھارٹی کی باقاعدہ منظوری حاصل نہ کی گئی ہو اور معاملے کی مکمل جانچ پڑتال نہ کرلی گئی ہو۔

گزشتہ سماعت کے دوران جسٹس ارباب نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی تھی کہ وہ مالیاتی اداروں کی جانب سے من مانی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ایک اندرونی نظام قائم کرے اور جامع رہنما خطوط جاری کرے۔

اس کے جواب میں اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو نئی ہدایات جاری کردی ہیں جن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈرز کو ایسی غیر ارادی یا احتیاطی پابندیوں کی وجہ سے نقصان یا پریشانی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے جو قانونی جواز کے بغیر عائد کی گئی ہوں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی بینک اکاؤنٹ پر پابندیاں صرف تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور مجاز اتھارٹی سے منظوری حاصل کرنے کے بعد ہی عائد کی جا سکتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو مزید ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اکاؤنٹ ہولڈرز کو بغیر کسی قانونی جواز کے عائد کردہ من مانی یا احتیاطی پابندیوں کی وجہ سے نقصان نہ اٹھانا پڑے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026