نیٹو کے سیکریٹری جنرل کی ٹرمپ سے ملاقات، ایران معاملے پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش
- ایران کے خلاف امریکی جنگ کی حمایت سے بعض اتحادیوں کی ہچکچاہٹ چند واقعات تک محدود تھی، مارک روٹے
نیٹو کے سیکریٹری جنرل ل مارک روٹے نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے نرم انداز میں مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ کی حمایت سے بعض اتحادیوں کی ہچکچاہٹ چند واقعات تک محدود تھی۔
نیٹو سربراہ واشنگٹن کے دورے پر ہیں تاکہ ایران جنگ اور یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنے کی دھمکیوں کے باعث پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کیا جا سکے۔ یہ کوشش جولائی میں انقرہ میں ہونے والے اہم نیٹو سربراہ اجلاس سے قبل کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ جو طویل عرصے سے نیٹو کے ناقد رہے ہیں اور اس اتحاد کو کاغذی شیر قرار دے چکے ہیں، اس بات پر ناراض ہیں کہ نیٹو نے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں امریکا کی مکمل حمایت نہیں کی اور نہ ہی 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد متاثر ہونے والی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے میں خاطر خواہ مدد فراہم کی۔
اوول آفس میں ہونے والی ملاقات کے دوران مارک روٹے نے چارٹس کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ 2017 میں ٹرمپ کے پہلی بار اقتدار میں آنے کے بعد نیٹو ممالک نے اپنے دفاعی اخراجات میں کس قدر اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے دوران ہزاروں امریکی فوجی طیاروں نے یورپ میں موجود اڈوں سے آپریشن کیے، جو اتحادیوں کی جانب سے امریکا کے ساتھ تعاون کی واضح مثال ہے۔
مارک روٹے نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ چند ایسے واقعات ہوئے ہیں جن پر آپ واقعی مایوس ہیں، لیکن مجموعی طور پر آپ کے یورپی اتحادی آپ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
تاہم ٹرمپ اس وضاحت سے زیادہ متاثر دکھائی نہیں دیے، اگرچہ انہوں نے مارک روٹے کی کوششوں کو سراہا۔
ٹرمپ نے کہا کہ آپ نے واقعی اچھا کام کیا ہے، اور میرا خیال ہے کہ اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید آج ہماری یہ ملاقات بھی نہ ہو رہی ہوتی، کیونکہ ہمیں مایوس کیا گیا۔ ہمیں اس معاملے میں کسی مدد کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
نومبر 2024 میں ٹرمپ کی دوسری انتخابی کامیابی کے بعد سے مارک روٹے کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک یہ رہی ہے کہ وہ صدر کی نیٹو کے حوالے سے ناراضی کو سنبھالیں اور گرین لینڈ کے حصول جیسے متنازع معاملات کو مستقل بحران میں تبدیل ہونے سے روکیں۔
حالیہ مہینوں میں واشنگٹن اور نیٹو کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ نیٹو اتحادیوں کی جانب سے ٹرمپ کی ایران مہم کی حمایت سے انکار کے بعد، جسے انہوں نے پیشگی مشاورت کے بغیر شروع کیا تھا، ٹرمپ نے کھلے عام یہ سوال اٹھایا کہ آیا امریکا کو نیٹو کے باہمی دفاعی معاہدے پر قائم رہنا چاہیے یا نہیں، اور یہ بھی کہا کہ وہ اتحاد سے علیحدگی پر غور کر رہے ہیں۔