وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کو اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملک بھر میں پائیدار معاشی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعت کاروں کے نمائندوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وزیر خزانہ نے پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت چیئرمین شام لال منگلانی کررہے تھے۔ ملاقات میں کپاس کے شعبے سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور معاشی ترقی، برآمدات اور دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع بڑھانے میں اس صنعت کے کردار کو مستحکم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کپاس کی ویلیو چین کی موجودہ صورتحال، کاشتکاروں اور جنرز کو درپیش چیلنجز اور ایسے پالیسی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا جو اس شعبے میں پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور پائیداری کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق پی سی جی اے کے نمائندوں نے کپاس کی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کیا کہ یہ ایک اہم نقد آور فصل ہونے کے ساتھ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔
وفد نے دیہی علاقوں میں روزگار کی فراہمی، منسلک صنعتوں کی معاونت، برآمدات میں شراکت اور درآمد شدہ کپاس پر انحصار کم کرنے میں اس شعبے کے کردار پر بھی زور دیا۔
ملاقات کے دوران وفد نے ٹیکسیشن، دستاویزی عمل اور شعبے میں باضابطہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے اقدامات سے متعلق تجاویز بھی شیئر کیں۔
اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ نے معیشت کے لیے کپاس کی صنعت کی اہمیت کو تسلیم کیا اور پیداواری شعبوں کے لیے سازگار کاروباری ماحول پیدا کرنے کے حکومتی عزم پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ زراعت اور صنعت میں پائیدار ترقی حکومت کے معاشی ایجنڈے کا اہم ستون ہے، انہوں نے پالیسی سازی کے عمل میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ٹیکس بیس کو وسیع کرنے، شفافیت کو بہتر بنانے اور ٹیکس دہندگان کے لیے مساوی مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کررہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ پالیسی اقدامات معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں۔
پریس ریلیز کے مطابق وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پی سی جی اے کی جانب سے پیش کردہ خدشات اور سفارشات کا متعلقہ حکام کی جانب سے بغور جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں کپاس کے ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے، مسابقت کو بہتر بنانے، ویلیو ایڈیشن کو بڑھانے اور پوری سپلائی چین میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کپاس کے شعبے کی طویل مدتی بحالی اور ترقی میں معاون عملی حل تلاش کرنے کے لیے حکومت اور صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل رابطے کو برقرار رکھنا نہایت اہم ہے۔