✕
پاکستان

سینیٹ کمیٹی کی برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم کے دائرے میں شامل کرنے کی سفارش

  • فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی اور مسابقتی برآمدی ٹیکس فریم ورک کو اپنانے سے برآمدی شعبہ کم از کم 20 فیصد نمو حاصل کرسکتا ہے، جاوید بلوانی
شائع اپ ڈیٹ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم کے دائرے میں شامل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے برآمدات پر مبنی ترقی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے ٹیکس نظام کو مزید معقول اور موثر بنانے کی ضرورت پرزوردیا ہے۔

اجلاس کی صدارت چئیرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی۔ اجلاس میں مالیاتی بل 2026-27 پر غور و خوض کیا گیا ۔ کمیٹی نے معاشی نمو کو مضبوط بنانے، برآمدات کی حمایت کرنے اور عوامی خدشات کو دور کرنے کے مقصد سے مالیاتی، تجارتی، صنعتی اور ٹیکس سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔

آل پاکستان ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیف کوآرڈینیٹرجاوید بلوانی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی اور مسابقتی برآمدی ٹیکس فریم ورک کو اپنانے سے برآمدی شعبہ حقیقت پسندانہ طور پر کم از کم 20 فیصد نمو حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں برآمدی آمدنی میں 6.4 ارب ڈالر کا اضافی اضافہ ہوگا اور کل برآمدات تقریباً 38.4 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتے عالمی مسابقتی ماحول میں برآمد کنندگان کو پالیسی کے استحکام، لیکویڈیٹی کی فراہمی میں مدد اور ایسے ٹیکس نظام کی ضرورت ہے جو ترقی کی حوصلہ افزائی کرے نہ کہ اسے محدود کرے۔

جاوید بلوانی نے مزید کہا کہ موجودہ نظام کئی منفی نتائج کا باعث بن رہا ہے جیسے کہ ورکنگ کیپٹل کا رک جانا، مہنگی بینک فنانسنگ پر انحصار میں اضافہ، کاروبار کی لاگت میں اضافہ، برآمدات کی توسیع اور جدید کاری کے منصوبوں میں تاخیر، بین الاقوامی مارکیٹوں میں مسابقت کی صلاحیت میں کمی، ٹیکس دہندگان اور ایف بی آر دونوں پر انتظامی بوجھ میں اضافہ اور تقریباً 400 ارب روپے کے ریفنڈ بیک لاگ کا جمع ہو جانا۔

کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ برآمدی شعبے کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جس کی بنیادی وجہ فائنل ٹیکس رجیم کے 1 فیصد سے نارمل ٹیکس رجیم کی طرف منتقلی اور برآمدی آمدنی پر ود ہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکس کٹوتیوں کا جاری رہنا ہے۔

اس صورتحال نے برآمد کنندگان کو مزید مالیاتی بوجھ، ٹیکس کی پیچیدگیوں، تعمیلی تقاضوں کی بھرمار، نوٹسز اور آڈٹ، انتظامی ہراسانی اور غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کا شکار کردیا ہے۔

یہ بتایا گیا کہ ایف ٹی آر سے این ٹی آر کی جانب منتقلی نے تعمیلی تقاضوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے جبکہ ساتھ ہی ساتھ برآمد کنندگان کے لیے ورکنگ کیپٹل کے شدید دباؤ کو بھی جنم دیا ہے۔ اگرچہ برآمدی رقوم پر ود ہولڈنگ ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس کٹوتیوں کے ذریعے ٹیکس پیشگی وصول کرلیا جاتا ہے لیکن این ٹی آر کے تحت بہت سے برآمد کنندگان کی اصل ٹیکس ذمہ داری اس سے کافی کم ہوتی ہے۔ مزید برآں کئی چھوٹے برآمدی شعبوں جیسے کہ غذائی/زرعی شعبے کی سپلائی چینز مکمل طور پر دستاویزی نہیں ہیں۔

نتیجتاً برآمد کنندگان حکومت کو اضافی ٹیکس وصولیوں کے ذریعے مالی معاونت کرنے پر مجبور ہیں جو کہ طویل عرصے تک ریفنڈ کلیمز میں پھنسے رہتے ہیں جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور نئے برآمد کنندگان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ برآمدات کے لیے این ٹی آر سے ایف ٹی آر کو بحال کرنے کے بجائے حکومت نے کم از کم ٹیکس کی شرح 1 فیصد سے بڑھا کر 1.25 فیصد کردی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026