آبنائے ہرمز میں ٹرانزٹ کی بحالی میں ہفتوں لگ سکتے ہیں، شپنگ کمپنی
- مٹسوئی او ایس کے کا بحری بیڑا 900 سے زائد جہازوں پر مشتمل ہے جن میں بلک کیریئرز، ٹینکرز اور فیریز شامل ہیں
جاپان کی مٹسوئی او ایس کے لائنز کے چیف ایگزیکٹو نے فنانشل ٹائمز کو منگل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ شپ اونرز آبنائے ہرمز سے ٹرانزٹ اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں کریں گے جب تک انہیں اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ حقیقی اور مؤثر ہے۔
ایران جنگ جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی نے اس ٹرانزٹ روٹ سے شپنگ کو بڑی حد تک روک دیا تھا جس کے ذریعے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور ایل این جی کی سپلائی گزرتی ہے، اس کے علاوہ ایلومینیم اور یوریا جیسے مصنوعات کی ترسیل بھی متاثر ہوئی تھی۔
جاپان کی 3 بڑی شپنگ کمپنیوں میں سے ایک، مٹسوئی او ایس کے کا بحری بیڑا 900 سے زائد جہازوں پر مشتمل ہے جن میں بلک کیریئرز، ٹینکرز اور فیریز شامل ہیں۔
مٹسوئی او ایس کے کے جوتارو تامورا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے اعلان سے قبل فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ کہ جو چیز عمل میں لانی ہوگی وہ صرف متعلقہ ممالک کے درمیان ایک سادہ سا معاہدہ نہیں بلکہ اسے ٹھوس ہونا چاہیے اور آبنائے ہرمز کی زمینی حقائق میں اس کا اثر نظر آنا چاہیے تاکہ شپنگ کمپنیاں وہاں سے گزرنے کے لیے خود کو مطمئن محسوس کرسکیں۔
تامورا نے اخبار کو بتایا کہ گزشتہ چند مہینوں کے تجربات کو دیکھتے ہوئے میرے خیال میں یہ فرض کرنا مناسب ہوگا کہ اس میں کم از کم چند ہفتے یا شاید ایک مہینہ لگ سکتا ہے۔ مٹسوئی او ایس کے نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان حتمی معاہدے نے بھی تامورا کے نقطہ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔