پاکستان

پاکستان جنیوا میں امریکہ ایران امن معاہدے کی میزبانی کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف

  • تین ماہ اور 16 دن کی شدید آزمائشوں اور چیلنجوں کے بعد ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، شہباز شریف
شائع June 15, 2026 اپ ڈیٹ June 15, 2026 02:17pm

وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان اس ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کی میزبانی کرے گا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکہ اور ایران اپنی جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ چکے ہیں اور وہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایک باضابطہ دستخطی تقریب منعقد کریں گے۔

یہ معاہدہ اتوار کو لبنان پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے باوجود طے پایا جس پر ایران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کی جانب سے تنقید کی گئی تھی۔

معاہدے کی حتمی شرائط فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پر بتایا کہ اس معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دنیا نے امن کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ تین ماہ اور 16 دن کی شدید آزمائشوں اور چیلنجوں کے بعد ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت تمام عسکری محاذوں پر دشمنی کے فوری خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اس تاریخی معاہدے کی باضابطہ تقریب جنیوا میں منعقد ہوگی جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔ انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہونا شروع ہوگیا ہے۔

شہبازشریف نے اس پیشرفت پر پاکستانی عوام اور عالمی برادری کو مبارکباد دی۔ انہوں نے ایوان کے تمام ارکان اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس پورے عمل کے دوران ان کی رہنمائی انہیں حاصل رہی ہے۔

وزیراعظم نے خاص طور پر صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم نواز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، علیم خان، خالد مقبول صدیقی اور خالد مگسی کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ محض دو ممالک کے درمیان ایک سمجھوتہ نہیں بلکہ امن اور مذاکرات کی فتح ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے سپریم لیڈر اور ایرانی صدر کو مبارکباد دی جبکہ قطر کے امیر اور سعودی ولی عہد کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم کے مطابق ترکیہ اور چین کے صدور، نیز دیگر برادر اور یورپی ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سب کو اللہ کے حضور شکرانے میں سر جھکانا چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن کے لیے حکومت کی مخلصانہ کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں، قوم طویل عرصے سے اس کامیابی کی متمنی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کی آگ مدھم پڑنے لگی ہے۔

وزیراعظم نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لیے بغیر کہا کہ امن کے قیام میں ان کا کردار انتہائی اہم اور فیصلہ کن رہا ہے اور انہوں نے اس عمل کے لیے دن رات خود کو وقف کر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو کئی نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا اور بسا اوقات ایسا لگا کہ یہ عمل تعطل کا شکار ہو جائے گا لیکن خلوص اور دانشمندی نے آخر کار امن کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ ایرانی فریق کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔

وزیراعظم نے ایرانی سفیر کو ایوان میں خوش آمدید کہا اور وزارتِ خارجہ کے حکام کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد کھڑی رہی جبکہ جنگ کے تباہ کن اثرات نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے پاکستان کی معیشت پر بھی دباؤ ڈالا لیکن قوم نے معاشی بحالی اور عوام کو مہنگائی کی شدت سے بچانے کے لیے حکومت کی کوششوں کی بھرپور حمایت کی۔

آخر میں وزیراعظم نے وفاقی و صوبائی قیادت کے ساتھ ساتھ پوری قوم کو سلام پیش کیا اور کہا کہ یہ کامیابی اجتماعی کوششوں اور قومی اتحاد کا نتیجہ ہے۔