دنیا

ایران، امریکہ امن معاہدہ قریب، آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار

  • ایران امریکہ کے ساتھ جنگ میں فاتح رہا ہے، عباس عراقچی
شائع June 13, 2026 اپ ڈیٹ June 13, 2026 10:51am

امریکہ اور ایران نے اشارہ دیا ہے کہ ان کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدہ قریب ہے جبکہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ دونوں فریق ایک متن پر متفق ہوچکے ہیں، واشنگٹن کو توقع ہے کہ ابتدائی معاہدے پر آئندہ چند روز میں دستخط ہو جائیں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگرچہ معاہدے میں مزید تبدیلیاں اب بھی ممکن ہیں تاہم مجوزہ معاہدہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کا ملک اس تنازع سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔

انہوں نے سرکاری ٹیلی وژن پر کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ جنگ میں فاتح رہا ہے۔

ان ریمارکس کے چند گھنٹے بعد ہی معاملے سے باخبر ایک ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کی جانب بڑھنے والے ایران کے متعدد یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کو مار گرایا۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ ڈرونز تجارتی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔ بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آبی گزرگاہ آمدورفت کے لیے کھلی ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی سِریک بندرگاہ اور جزیرہ قشم میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جنہیں مقامی رہائشیوں اور حکام نے ایرانی فورسز کی جانب سے فائرنگ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ فائرنگ اُن جہازوں کو خبردار کرنے کے لیے کی گئی جو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی اجازت کے بغیر آبی گزرگاہ عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شقیں شامل ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جسے امریکی صدرنے جنگ شروع کرنے کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا بعد میں کیے جائیں گے۔

امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کے بنیادی مقاصد کو پورا کرتا ہے اور مذاکرات کو بہت ہی سازگار پوزیشن میں لے آیا ہے۔

مغربی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع سے سامنے آنے والی مجوزہ مسودے کی تفصیلات سے ظاہر ہوا کہ معاہدے کی بعض شرائط ایران کے حق میں جا سکتی ہیں، جس پر ٹرمپ نے تنقید کرتے ہوئے ان رپورٹس کو غلط قرار دیا۔

اگرچہ تفصیلات میں معمولی اختلافات موجود تھے لیکن تجاویز مجموعی طور پر تہران کو وہ بہت کچھ پیش کررہی تھیں جس کا وہ مطالبہ کرتا رہا ہے جبکہ صدر ٹرمپ کے حصے میں آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے سوا بظاہر کچھ خاص نہیں آیا، جسے ایران نے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد بند کر دیا تھا۔

عراقچی نے کہا کہ ایران، عمان کے ساتھ مل کر اس آبنائے سے گزرنے والی ٹریفک پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی۔

ایک مغربی ذرائع نے بتایا کہ یہ معاہدہ اتوار تک امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے اسپیکرِ پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کے دستخطوں سے طے پا سکتا ہے، جس کے لیے جنیوا کو سب سے ممکنہ مقام سمجھا جارہا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ دستخط کے مقام کے طور پر یورپ پر غور کیا گیا ہے لیکن تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ۔