آبنائے ہرمز سے مزید تین ایل این جی ٹینکر روانہ، ایک کا رخ پاکستان کی جانب
- جنگ کے آغاز کے بعد اب تک مجموعی طور پر 12 ایل این جی کارگو بردار جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر چکے ہیں
خلیج میں جاری کشیدگی کے باوجود مزید تین مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کر کے ایشیائی ممالک کی جانب روانہ ہو گئے ہیں، اگرچہ ان کی گزرگاہ اور وقت کی مکمل تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں ایل ایس ای جی اور کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل دوسرے روز فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں مزید حملوں کی دھمکی دی ہے، جبکہ واشنگٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی تیل لے جانے والے ایک جہاز کو نشانہ بنایا۔
قطر انرجی کے زیر انتظام ایل این جی ٹینکرز لیبریتھا اور رشیدہ بالترتیب یکم جون اور 30 اپریل کو آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں آخری بار دیکھے گئے تھے۔ دونوں جہازوں نے قطر کے راس لفان ٹرمینل سے ایل این جی کارگو اٹھایا تھا۔
جہازوں کے ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق دونوں ٹینکرز 10 جون کو دوبارہ منظر عام پر آئے۔ لیبریتھا، جس نے 22 مئی کو کارگو لوڈ کیا تھا، پاکستان کی جانب گامزن ہے، جبکہ رشیدہ، جو 27 فروری سے ایل این جی کارگو لے جا رہا تھا، اس وقت جنوب مشرقی ایشیا کے قریب پہنچ چکا ہے۔
تیسرا ایل این جی ٹینکر میری گولڈ، جو ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے زیر انتظام ہے، بھی 10 جون کو دوبارہ ٹریکنگ ڈیٹا میں ظاہر ہوا۔ یہ جہاز یکم مئی کو آبنائے ہرمز کے مشرق میں خالی حالت میں دیکھا گیا تھا، بعد ازاں اس نے 25 مئی کو داس آئی لینڈ سے ایل این جی کارگو حاصل کیا اور اب بھارت کی جانب سفر کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز کے بعد اب تک مجموعی طور پر 12 ایل این جی کارگو بردار جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر چکے ہیں، جس سے عالمی توانائی منڈیوں کو کسی حد تک اطمینان ملا ہے۔