کاروبار اور معیشت

سابق فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کے تاجروں کا ٹیکسوں کی واپسی کا مطالبہ

  • ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بغیر ٹیکسز کا نفاذ سراسر ناانصافی ہے، انعام اللہ، عبدالرحیم ودیگر
شائع June 9, 2026 اپ ڈیٹ June 9, 2026 12:58pm

مالاکنڈ ڈویژن اور نئے شامل ہونے والے قبائلی اضلاع کے تجارتی رہنماؤں نے سابق فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں پر عائد ٹیکسز کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مختلف چیمبرز آف کامرس اور تاجر تنظیموں کے صدور بشمول انعام اللہ، عبدالرحیم، نور محمد، امیر محمد، حاجی لال شاہ اور محبوب اعظم نے ایک مشترکہ بیان میں خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کے موقف کی بھرپور حمایت کی، جنہوں نے حالیہ پریس کانفرنس میں تاجروں کے مسائل اور مطالبات کے حق میں آواز اٹھائی تھی۔

تاجر رہنما عبدالرحیم نے کہا کہ ریاست نے ان پسماندہ علاقوں کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے جو وعدے کیے تھے وہ تاحال ادھورے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان اضلاع کو دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کے لیے ایک ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اپنا عہد پورا کرے۔

ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بغیر ٹیکسز کا نفاذ سراسر ناانصافی ہے۔ تاجروں نے خبردار کیا کہ ایف بی آر کی موجودہ پالیسیوں اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں سے معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ اگر یہ ٹیکس واپس نہ لیے گئے تو تاجر برادری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہو گی۔