ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کا سلسلہ عارضی طور پر تھم گیا
- گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والے حملے اپریل کی جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا براہِ راست ٹکراؤ ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوری طور پر فائرنگ بند کرنے کی اپیل کے بعد پیر کو ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان کیا ہے، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ پر حملے جاری رکھے تو وہ دوبارہ عسکری کارروائی شروع کر دے گا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی حملوں کی لہر اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے ایران اور اسرائیل کے درمیان سب سے بڑا براہِ راست تصادم ہے، جس سے تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی واشنگٹن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
حملوں کے اس سلسلے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 5 فیصد تک بڑھ گئی تھیں، تاہم بعد میں اس وقت قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جب ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ اسرائیل پر اس کے حملوں کا پہلا مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔ دوسری جانب امریکی ڈالر بھی تقریباً دو ماہ کی اپنی بلند ترین سطح سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔
معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل نے بھی ایران پر اپنے حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کو دیر گئے تہران کی جانب سے اسرائیلی علاقے پر میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل نے ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ تہران کا کہنا تھا کہ اس کے حملے بیروت کے مضافات میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے ٹھکانوں پر اسرائیلی بمباری کا جواب تھے۔
اسرائیل نے جنوب مغربی ایران میں ایک پیٹرو کیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ یہ پلانٹ بیلسٹک میزائل بنانے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ جواب میں ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے شہر حیفہ میں اسی نوعیت کے ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی فوجی ہیڈ کوارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں بشمول اتوار کو بیروت کے مضافات میں ہونے والی بمباری کا ”دردناک جواب دے دیا ہے“۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے مطابق مسلح افواج کی کارروائیاں اب ختم کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے، تاہم اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ اگر جارحیت اور شرپسندی کی کارروائیاں جاری رہیں بشمول جنوبی لبنان میں تو اس بار پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
حملوں کے اس تبادلے نے جنگ کو ختم کرنے کی ٹرمپ کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کا آغاز امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو کیا تھا اور یہ صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ تنازع کتنی آسانی سے ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ 8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی نے ہمہ جہت جنگ کو تو روک دیا تھا لیکن خلیج میں کشیدگی کا یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنی متعدد پوسٹس میں سے ایک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور ایران دونوں فوری جنگ بندی چاہتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ امن کے لیے حتمی مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں، بشرطیکہ جہالت یا حماقت اس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔