رائے

توانائی بحران میں گھرا پاکستان

  • روایتی پالیسیاں بدلنے کا وقت آ گیا، حکومت نااہل ڈسکوز کو اربوں کی سبسڈی دینا بند کرے اور نجکاری کو واحد حل سمجھنے کے تصور پر نظرثانی کرے
شائع June 8, 2026 اپ ڈیٹ June 8, 2026 02:25pm

عالمی معیشت میں کسی بھی بنیادی شے (پروڈکٹ) کی سپلائی میں تعطل صرف کاروباری نقصان نہیں لاتا بلکہ ایک نئی عالمی بحث کو جنم دیتا ہے۔ جنگوں، آفات یا تجارتی پابندیوں کے فوری بعد دنیا بھر کی حکومتیں دفاعی پوزیشن میں آکر اپنے محفوظ ذخائر جاری کرتی ہیں اور مستقبل میں ایسے جھٹکوں سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ تاہم طویل مدتی معاشی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ متبادل ذرائع پر منتقلی اس قدر مہنگی اور پیچیدہ ہے کہ موجودہ انفرااسٹرکچر کے سامنے ٹک نہیں پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ سپلائی کی بحالی کے ساتھ ہی طلب کا پہیہ دوبارہ اپنے پرانے مرکز پر گھومنے لگتا ہے۔

اس کی ایک مثال اکتوبر 1973 میں عرب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے یوم کپور جنگ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے ممالک کے خلاف لگائی جانے والی تیل کی پابندی ہے۔ تاہم جب مارچ 1974 میں یہ پابندی اٹھائی گئی تو تیل کی عالمی طلب تیزی سے بحال ہو گئی کیونکہ اقتصادی طور پر یہ اب بھی سب سے زیادہ قابلِ عمل پروڈکٹ تھا۔ آج تکنیکی ترقی کے ساتھ جوہری اور قابلِ تجدید توانائی سمیت مزید متبادل موجود ہیں اور اس کے باوجود عالمی سطح پر یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ سپلائی بحال ہوتے ہی طلب بھی بحال ہو جائے گی۔

مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کی وجہ سے تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والے خلل نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کو ایک واضح حقیقت بیان کرنے پر مجبور کیا کہ اس نے دنیا بھر میں کافی مشکلات پیدا کی ہیں، پھر انہوں نے علامتی طور پر سوال کیا کہ ہمیں کس چیز نے متاثر کیا اور خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک سپلائی شاک جو بڑا، عالمی اور غیر متناسب ہے، یہ بڑا اس لیے ہے کیونکہ دنیا میں تیل کا روزانہ کا بہاؤ لگ بھگ 13 فیصد اور ایل این جی کا بہاؤ تقریباً 20 فیصد کم ہوا ہے۔ یہ عالمی اس لیے ہے کیونکہ اب ہم سب توانائی کے لیے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں سپلائی چینز درہم برہم ہو چکی ہیں اور یہ غیر متناسب اس لیے ہے کیونکہ اس کا اثر تنازع سے قربت پر منحصر ہے، اس بات پر کہ آیا آپ توانائی برآمد کرنے والے ملک ہیں یا درآمد کرنے والے اور آپ کی پالیسی کی گنجائش کتنی ہے۔

تیل کی درآمد پر شدید انحصار نے پاکستان کو توانائی کے عالمی بحرانوں کے سامنے ہمیشہ بے بس رکھا ہے۔ آئی ای اے کی رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، جس کے مطابق پاکستان کا پورا انرجی مکس روایتی تیل اور گیس کے گرد گھوم رہا ہے اور پن بجلی کے علاوہ قابلِ تجدید توانائی کے دیگر ذرائع ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ترقی کے تمام تر دعووں کے باوجود ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے۔ رپورٹ کے مطابق 4 کروڑ سے زائد پاکستانی سرے سے بجلی کی نعمت ہی سے محروم ہیں، جبکہ آدھی آبادی کے پاس صاف ستھرے چولہے تک میسر نہیں، جو کہ ملک میں توانائی کی شدید عدم مساوات اور غربت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

آئی ای اے نے مزید نوٹ کیا کہ توانائی کی کل کھپت کا 48 فیصد استعمال رہائشی شعبے میں، 23 فیصد صنعت میں استعمال ہوتا ہے جس میں صنعت کی کل کھپت کا 30 فیصد قدرتی گیس اور 27 فیصد کوئلہ اور اس کی مصنوعات پر مشتمل ہے۔

کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ جو بجلی چھ سال پہلے 16 روپے کی تھی، آج وہ 33 روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے؟ یہ ہے وہ مہنگائی کا بم جو پاکستان کے پاور سیکٹر کی نااہلی نے عوام پر گرایا ہے۔ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکجز کے پیچھے چھپی شرائط کا لب لباب صرف ایک ہی ہے کہ غریب صارفین سے پائی پائی وصول کی جائے۔ ہماری حکومتوں نے گرڈ اسٹیشنز کی خرابیوں کو دور کرنے اور سسٹم کو جدید بنانے کے بجائے فی یونٹ قیمتیں بڑھا کر اپنی جان چھڑائی اور ظلم کی انتہا دیکھیے چوری روکنے کے لیے لاء انفورسمنٹ کا سہارا لینے کے بجائے پورے کے پورے محلوں کو اندھیرے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ مجرمانہ پالیسی اس ملک کے شہریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کی ایک بدترین مثال ہے۔

دوسرا بڑا گناہ یہ ہے کہ گردشی قرضے (سرکولر ڈیٹ) کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے لیے مقامی تجارتی بینکوں سے اندھا دھند قرضے لیے گئے‘ وہ بینک جو پہلے ہی پاور سیکٹر کو ادھار دے دے کر تھک چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس بھاری بھرکم قرضے پر لگنے والے سود کا ایک ایک پیسہ غریب عوام کی جیبوں سے نچوڑا جا رہا ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو 2013 میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس دلدل سے نکلنے کے لیے بینکوں سے تقریباً 500 ارب روپے ادھار لیے تھے، مگر یہ مرض بڑھتا ہی گیا اور 2024 تک یہ گردشی قرضہ ہولناک حد تک بڑھ کر 2.5 ٹریلین (2500 ارب) روپے کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ حد تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی پچھلے سال اسی ناکام نسخے کو دہراتے ہوئے 1.25 ٹریلین روپے کا نیا قرضہ اٹھا لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قرض کی اس مے سے ابھرنے والا یہ گردشی قرضے کا سائے دار جن کب دوبارہ عوام پر حملہ آور ہوتا ہے!

توانائی کے شعبے کے ماہرین پاکستان کے موجودہ بحران کے پیچھے چار بنیادی ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم چیلنج روایتی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی راہ میں حائل شدید معاشی رکاوٹیں ہیں۔ اس مسئلے کا آغاز 2002 اور 2012 کی پاور پالیسیز سے ہوا، جہاں خودمختار پاور پروڈیوسرز کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے جن کی رو سے طلب میں کمی کے باوجود حکومت کو ان نجی کمپنیوں کو ڈالرز میں کیپیسٹی چارجز ادا کرنے ہی تھے۔ یہ شرط اب گرین انرجی یا متبادل ذرائع کو اپنانے کی تمام کوششوں کو معاشی طور پر ناقابلِ عمل بنا دیتی ہے۔ بدقسمتی سے پالیسی سازی کی اس سنگین خامی سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا اور 2015 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت دستخط کیے جانے والے توانائی کے نئے منصوبوں میں بھی انہی شرائط کا تسلسل برقرار رکھا گیا جس نے اس دلدل کو مزید گہرا کر دیا۔

دوسرا بنیادی نکتہ ہمارے پالیسی سازوں کی وہ غیر حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی ہے جو بہترین الفاظ میں ناقص تشخیص اور بدترین صورت میں گیس اور بجلی کی طلب کا تخمینہ لگانے کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کرنے پر مبنی تھی۔ اس کی واضح مثال 2016 کا قطر ایل این جی معاہدہ ہے، جہاں معاشی ترقی کے ایسے اہداف طے کیے گئے جو کبھی حاصل ہی نہ ہو سکے۔ یہی وجہ تھی کہ جب قطر کی جانب سے فورس میجر کے تحت عارضی معطلی کا اعلان سامنے آیا تو معاشی ٹیم کے رہنماؤں نے اسے ایک بڑا ریلیف سمجھا۔ تاہم اس کے منفی اثرات سے انکار ممکن نہیں کیونکہ معاہدے کے تحت آنے والے چھ آر ایل این جی کارگوز میں سے دو کی ماہانہ فراہمی معطل ہونے سے ملکی ضروریات کو شدید دھچکا لگا ہے اور اب مارکیٹ میں گیس کا بحران سر اٹھا چکا ہے۔

تیسرا سنگین المیہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے دکھائی جانے والی مجرمانہ جلد بازی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے الٹے سیدھے فیصلے ہیں۔ جب بھی کوئی بحران آتا ہے ہمارے حکمران کوئی ایسا شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں جو آگے چل کر گلے کا پھندا بن جاتا ہے۔ اس کی ایک مضحکہ خیز مثال کوئلے کی کانوں سے سینکڑوں میل دور کوئلے کا پاور پلانٹ لگانا ہے، جس کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات آسمان پر پہنچ گئے اور قریبی آبادیوں کے لیے صحت کے سنگین مسائل کھڑے ہو گئے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے دور میں رینٹل پاور پراجیکٹس کا تماشہ لگایا گیا، جس پر اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے خود تھرڈ پارٹی آڈٹ کا اصرار کیا اور جب آڈٹ ہوا تو اس نے ان معاہدوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کی دھجیاں اڑا دیں۔ اب تازہ ترین حماقت دیکھیے حکومت نے خود گھروں کے لیے سولر پینلز کی حوصلہ افزائی کی اور جب لوگوں نے سولر لگوا لیے تو نیشنل گریڈ سے بجلی کی طلب کم ہو گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب خالی پڑے بجلی گھروں کے کیپیسٹی چارجز کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے جو گھوم پھر کر غریب صارفین پر ہی گر رہا ہے۔

توانائی بحران کی چوتھی اورآخری اہم وجہ ملک میں گیس اور تیل کے ذخائر کا مسلسل کم ہونا ہے، جس نے پاکستان کو درآمدی ایندھن کا محتاج بنا دیا ہے۔ اس ایندھن کی خریداری کے لیے بھاری غیر ملکی زرِ مبادلہ درکار ہوتا ہے۔ مئی 2026 کے اختتام پر اگرچہ ملکی ذخائر ساڑھے سترہ ارب ڈالر کے قریب ہونے کی وجہ سے مستحکم نظر آتے ہیں، مگر ان کی بنیاد قرضوں پر کھڑی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اب روایتی پالیسیوں کو بدلنے کا وقت آ چکا ہے۔ حکومت کو ٹیرف کی برابری کی حکمتِ عملی ختم کرنی چاہیے جس کے ذریعے نااہل ڈسکوز کو عوامی ٹیکسوں سے اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نجکاری کو واحد حل سمجھنے کے تصور پر بھی دوبارہ غور کی ضرورت ہے۔ کے الیکٹرک کی 2005 میں ہونے والی نجکاری اس کی واضح مثال ہے، جو اب بھی نیشنل گریڈ کی سپلائی پر انحصار کرتی ہے اور اپنے صارفین کو موثر طریقے سے بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مزید برآں رخصت ہونے والے مالی سال میں اسے 135 ارب روپے کی خطیر سرکاری سبسڈی دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ محض نجکاری سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026