اپٹما کا کسٹمز ٹیرف میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ
- اگر فوری پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتا ہے
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت کو مالی سال 2026-27 کے لیے کسٹمز ٹیرف فریم ورک میں بنیادی تبدیلیوں کی ایک تفصیلی تجاویز پیش کی ہیں اور خبردار کیا ہے کہ اگر فوری پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، سستے غیر ملکی درآمدی مال اور صنعتی یونٹس کی بندش کے باعث ملک کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہے، جہاں 40 فیصد سے زائد اسپننگ اور ویونگ یونٹس پہلے ہی بند ہو چکے ہیں جبکہ مزید یونٹس بندش کے دہانے پر ہیں۔
اپٹما نے خاص طور پر پیور ٹیریفتھالک ایسڈ (پی ٹی اے) پر کسٹمز ڈیوٹی 3 فیصد تک کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کا واحد پی ٹی اے پلانٹ پرانی ٹیکنالوجی پر چل رہا ہے جس کی لاگت عالمی معیار سے کہیں زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ جنوری 2026 میں نیشنل ٹیرف کمیشن کی جانب سے چین سے پی ٹی اے درآمدات پر 2.63 فیصد سے 9.50 فیصد تک اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کیے جانے سے مقامی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔
اسی طرح پولی ایسٹر اسٹیپل فائبر (پی ایس ایف) پر بھی تمام اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ختم کرنے اور کسٹمز ڈیوٹی 3 فیصد تک کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق موجودہ ڈیوٹی ڈھانچہ مقامی قیمتوں کو عالمی سطح سے تقریباً 20 فیصد مہنگا بنا رہا ہے۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری نے ڈائیز، کیمیکلز اور صنعتی اسپئر پارٹس پر تمام ڈیوٹیز ختم کرنے اور کاٹن کی ڈیوٹی فری درآمدات جاری رکھنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، کیونکہ ملکی پیداوار 5.4 ملین بیلز تک گر چکی ہے جبکہ صنعت کو 12 ملین بیلز سے زائد کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب اپٹما نے یارن اور فیبرک کی درآمدات پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے اور انہیں آزاد تجارتی معاہدوں سے باہر رکھنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ صرف یارن کی درآمدات میں اضافہ 111 ملین کلوگرام تک پہنچ گیا ہے جس نے مقامی صنعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
توانائی کے شعبے میں اپٹما نے بڑے گیس جنریٹرز پر کسٹمز ڈیوٹی صفر کرنے اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے غلط استعمال کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے مطابق ایم ایم ایف یارن کی درآمدات نے 140 سے زائد ملوں کی بندش میں کردار ادا کیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان تجاویز پر عمل نہ کیا گیا تو ٹیکسٹائل سیکٹر کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے اور برآمدات مزید کم ہو سکتی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026