جب 2024ء کے بالکل آخر میں اڑان پاکستان اقدام کا آغاز کیا گیا تو اس کا تصور ملکی برآمدات میں اضافے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو 2035ء تک ایک کھرب (ٹریلین) ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنا تھا۔
اس منصوبے میں ملک کے لیے برآمدات کے انتہائی بلند و بانگ اہداف مقرر کیے گئے تھے جس کے تحت مالی سال 2028-29 تک برآمدات کو 60 ارب امریکی ڈالر اور اگلے سات سے آٹھ سالوں میں 100 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانا تھا۔
تاہم 2 جون کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس نے یہ واضح کر دیا کہ حقیقت، ان بلند اہداف سے کتنی دور ہوچکی ہے۔ جے یو آئی ف کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے دوٹوک انداز میں سوال اٹھایا کہ اُڑان پاکستان کے آغاز کے ڈیڑھ سال بعد برآمدات نہ صرف جمود کا شکار کیوں ہیں بلکہ ان میں کمی کیوں واقع ہوئی ہے۔
مالی سال 2025-26 کے پہلے 10 مہینوں کے دوران برآمدات گر کر 25.21 ارب امریکی ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ سال اسی مدت کے 26.89 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں 6 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔
اڑان پروگرام کے منصوبہ ساز ملک کو برآمدات کے ان بلند و بانگ اہداف تک کیسے پہنچائیں گے، یہ بات تب تک ایک معمہ ہی رہے گی جب تک ملکی معیشت میں ایسی بنیادی ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں نہ لائی جائیں جو برآمدی شعبے کو کم قیمت اور روایتی اشیاء پر دائمی انحصار سے نجات دلائیں اور اسے ملکی و عالمی سطح پر تیزی سے بدلتے ہوئے غیر یقینی ماحول کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا سکیں۔
اجلاس کے دوران سیکرٹری تجارت کی گفتگو نے اس تنزلی کی کچھ وجوہات پر روشنی ڈالی جس نے صنعتی شعبے کی ایک ایسی تصویر پیش کی جو بھاری اخراجات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے: خطے میں سب سے مہنگے بجلی و گیس ٹیرف، فنانسنگ (قرضوں) کی ناقابلِ برداشت لاگت، انتہائی پیچیدہ اور جابرانہ ٹیکس نظام اور خام مال و ٹرانسپورٹیشن اخراجات میں شدید اضافہ، ان تمام عوامل نے مل کر برآمدی شعبے کی پیداواری صلاحیت اور بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کی سکت کو ختم کردیا ہے جس نے پاکستان کو خطے میں کاروبار کرنے اور بالخصوص یہاں سے برآمدات کرنے کے لیے مہنگا ترین ملک بنا دیا ہے۔
ہماری سرحدوں اور وسیع تر خطے میں غیر مستحکم سیکیورٹی صورتحال نے بھی معاملات کو مزید خراب کیا ہے۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات میں دراڑ نے پاکستان کو برآمدات اور ٹرانزٹ (ٹرانزٹ ٹریڈ) کی مد میں ہونے والی تقریباً 85 کروڑ (850 ملین) امریکی ڈالر کی آمدن سے محروم کر دیا ہے۔ دوسری جانب، ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث خلیجی ممالک کی مارکیٹوں کو کی جانے والی برآمدات میں مزید 600 ملین امریکی ڈالر کے نقصان کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جس کے ساتھ ہی لوجسٹکس اور توانائی کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں جو مقامی مینوفیکچررز کی مسابقت (مقابلہ کرنے کی سکت) کو مزید ختم کر رہے ہیں۔
ان بیرونی جھٹکوں کے اثرات نے پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار برآمدی ڈھانچے کی کمزوری کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
اگر پاکستان برآمدات کے حوالے سے اپنے عزائم میں واقعی سنجیدہ ہے تو اس سنجیدگی کا عملی مظاہرہ سب سے پہلے توانائی شعبے اور ٹیکس ڈھانچے میں جڑ سے لے کر شاخ تک (بنیادی) اصلاحات کے ذریعے کرنا ہوگا۔ اس کے لیے بجلی و گیس کے جابرانہ ٹیرف کو مناسب اور منطقی بنانا ہوگا اور ٹیکسیشن کے اس مروجہ نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا جو ٹرن اوور پر کم از کم ٹیکس اور ود ہولڈنگ راج پر مبنی ہے جو تجارتی سرگرمی کے ہر مرحلے پر کاروباری برادری کا خون چسوتا ہے۔
لیکن یہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات تنہا اس وقت تک کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتیں، جب تک کہ حکومت اور کاروباری برادری دونوں کے نقطہ نظر میں ایک انقلابی تبدیلی نہ آئے اور وہ ملک میں بچ جانے والے اضافی مال کو بیرونِ ملک فروخت کرنے کے گہرے جڑوں والے مروجہ رجحان کو ترک نہ کر دیں۔
پاکستان کو اس وقت ایک سوچ سمجھ کر تیار کردہ، مستقبل مزاج برآمدی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو یہ نشاندہی کرے کہ عالمی سطح پر طلب کا رخ کس طرف ہے، اس کے مطابق پیداواری صلاحیت کو فروغ دے اور اس مخصوص شعبے میں پاکستانی صنعت کو دنیا کی پہلی ترجیح کے طور پر پیش کرے۔
اس محدود اور ردِعمل پر مبنی سوچ نے پاکستان کو برآمدی قدر کے نچلے ترین درجے سے جکڑ رکھا ہے، یعنی ایک ایسا روایتی برآمدی ڈھانچہ جس پر بنیادی ٹیکسٹائل، خام یا نیم تیار شدہ اشیاء کا غلبہ ہے جن کی اضافی قیمت (پریمیم) ادا کرنے سے دنیا کب کی پیچھے ہٹ چکی ہے۔ اب اس پرانی سوچ کو ویلیو چین میں ایک فیصلہ کن اور آگے کی پیش رفت کا راستہ دینا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی معیارات پر پورا اترنے کے لیے مصنوعات کے معیار اور مینوفیکچرنگ کے عمل کو جدید بنایا جائے، صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات پر نظر رکھنے اور اہم برآمدی مقامات پر سخت ہوتی ہوئی ریگولیٹری ضروریات کو سمجھنے کے لیے مارکیٹ انٹیلیجنس میں سرمایہ کاری کی جائے اور برانڈنگ، جدت پسندی، ٹیکنالوجی کو اپنانے اور سپلائی چین کے بھروسے میں اس طرح کی ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کی جائے جیسی خطے کے دیگر حریف ممالک برسوں پہلے قائم کرچکے ہیں۔
پاکستان کو اپنی برآمدی معیشت کو نئے سرے سے بنیادوں سے کھڑا کرنے کے لیے سیاسی عزم اور ادارہ جاتی ہمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ورنہ 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف محض کاغذ پر لکھا ایک ہندسہ ہی رہ جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026