دنیا

اسرائیل کی اسلحہ برآمدات ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، وزارتِ دفاع۔

  • میزائل، راکٹ اور فضائی دفاعی نظام اسرائیل کی سب سے بڑی برآمدی مصنوعات رہیں، جو مجموعی دفاعی سودوں کا 29 فیصد حصہ تھیں، بیان میں دعویٰ
شائع اپ ڈیٹ

اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ملک کی اسلحہ برآمدات مسلسل پانچویں سال ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں اور 2025 میں ان کا حجم 19.2 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس میں میزائل، راکٹ اور فضائی دفاعی نظاموں کی فروخت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اسرائیل دنیا کے بڑے اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اسرائیل نے دفاعی برآمدات کا اپنا ریکارڈ مسلسل پانچویں سال توڑ دیا ہے اور 2025 میں یہ حجم 19.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔ دفاعی برآمدات کا حجم گزشتہ پانچ برسوں میں دوگنا سے زیادہ اور ایک دہائی میں چار گنا ہو چکا ہے۔‘‘

بیان میں کہا گیا کہ میزائل، راکٹ اور فضائی دفاعی نظام سب سے زیادہ برآمد ہونے والی دفاعی مصنوعات رہیں اور مجموعی سودوں میں ان کا حصہ 29 فیصد تھا۔ وزارتِ دفاع کے مطابق نگرانی اور آپٹرانک مشاہداتی نظاموں (آبزرویشن اور آپٹرونکس سسٹم) کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسرائیلی دفاعی برآمدات کا 36 فیصد یورپی ممالک نے خریدا، جبکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے کا حصہ 32 فیصد رہا۔ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک نے 15 فیصد دفاعی برآمدات خریدیں۔

بیان کے مطابق اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا، ’’اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کی مختلف محاذوں پر حاصل کردہ کامیابیوں، اسرائیل کی دفاعی صنعتوں کی غیرمعمولی صلاحیتوں اور دنیا بھر میں اسرائیلی دفاعی برآمدات کی کامیابی کے درمیان ایک واضح اور ناقابلِ تردید تعلق موجود ہے۔‘‘

اپریل میں وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے تناظر میں ایرو ( تیر) میزائل شکن نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار تیز کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ اسرائیل کے پاس موجود انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کب تک برقرار رہ سکیں گے۔ بعض تجزیہ کاروں نے خاص طور پر جدید ایرو انٹرسیپٹر میزائلوں کی ممکنہ قلت کی نشاندہی بھی کی تھی۔