Perspectives

آئی ایم ایف کے ہر بیل آؤٹ کا وہ نکتہ جو نظروں سے اوجھل رہا

  • آبنائے ہرمز میں میزائل داغتے ہی لندن انشورنس مارکیٹ متحرک ہو کر تیل سپلائی رکنے سے پہلے، جنگی اخراجات کا بوجھ پاکستان جیسے بے قصور ملکوں پر ڈال دیتی ہے
شائع اپ ڈیٹ

آبنائے ہرمز کے قریب داغے جانے والے میزائلوں اور لندن کے مالیاتی گلیاروں کے درمیان کا فاصلہ محض چند گھنٹوں کا ہے۔ ادھر میزائل فضا میں بلند ہوتے ہیں اور ادھر لندن کے انڈر رائٹرز خلیج فارس میں موجود بحری جہازوں کے وار رسک پریمیم پر نظرثانی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ عالمی ری انشورنس مارکیٹ کی وہ پوشیدہ اور بے رحم مشینری ہے جو تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے بھی پہلے جنگ کا سارا مالیاتی بوجھ ان غریب اور ترقی پذیر ممالک کی جھولی میں ڈال دیتی ہے جنہیں اس تنازع کا علم اخبارات کے ذریعے ہوتا ہے، پاکستان بھی انہی ممالک میں سے ایک ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جو پاکستان کو 24 مرتبہ مالی امداد (بیل آؤٹ) فراہم کر چکا ہے اور اس وقت اپنے تاریخ کے سب سے بڑے پروگرام کی نگرانی کر رہا ہے نے پاکستان کی معاشی کمزوریوں کا تعین کرتے وقت اس نظام کو کبھی بھی اپنے پیشِ نظر نہیں رکھا۔میں ری انشورنس کے شعبے میں کام کرتا ہوں، جو کہ عالمی سطح پر خطرات کی منتقلی کی وہ ہول سیل تہہ ہے جہاں بڑے خطرات کو یکجا کیا جاتا ہے ان کی قیمت مقرر کی جاتی ہے اور انھیں اداروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ میں نے ایک دہائی سے زائد عرصہ بحری جنگی خطرات کے کور (میرین وار رسک کور) سے نمٹنے اور یہ دیکھنے میں گزارا ہے کہ لندن کی مارکیٹ ارضی سیاسی (جیو پولیٹیکل) واقعات پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ میں جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ری انشورنس مارکیٹ کوئی مفروضہ یا خیالی چیز نہیں ہے۔ یہ وہ لاگت ہے جو براہِ راست ہر درآمدی شے کی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہے، خام تیل سے لے کر کھانا پکانے والی گیس اور اس کھاد تک جو ہماری خوراک اگاتی ہے۔

یہ نظام اس طرح کام کرتا ہے۔ جب خلیج میں ارضی سیاسی تناؤ بڑھتا ہے تو لائیڈز جوائنٹ وار کمیٹی اپنے اعلیٰ خطرے والے علاقوں کے دائرہ کار کو وسیع کر دیتی ہے۔ انشورنس کمپنیاں ان پانیوں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے جنگی خطرات کی کوریج کی قیمتیں بڑھا دیتی ہیں یا اسے واپس لے لیتی ہیں۔ 2025 کے وسط میں جیسے ہی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا خلیج کی طرف جانے والے جہازوں کے ڈھانچے اور مشینری کے پریمیم میں 2024 کی بنیادی سطح کے مقابلے میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔

2026 کے اوائل تک ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کے بعد پورے خلیج فارس کو اعلیٰ خطرے کا علاقہ قرار دے دیا گیا اور ری انشورنس کی شرحیں چند ہی دنوں میں دس گنا بڑھ گئیں۔ بڑی بحری انشورنس کمپنیوں نے کوریج کو مکمل طور پر معطل کر دیا یا اس کی قیمتوں پر ازسرنو نظرثانی کی۔یہ لاگتیں لندن تک محدود نہیں رہتیں۔ یہ نیچے کی طرف منتقل ہوتی ہیں شپنگ چارٹر کے نرخوں، فریٹ سرچارجز، اور لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کے ذریعے جن کا حصول مشکل تر ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ یہ اس ملک کے بیلنس شیٹ پر آ گرتی ہیں جسے اس کارگو کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان کو اس کی ضرورت کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی تیل کی درآمدات کا تقریباً 81 فیصد آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتا ہے۔ 2024 میں پاکستان نے صرف خلیجی ممالک سے تقریباً 13.96 ارب ڈالر کا خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جو ملک کے پورے درآمدی بل کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے۔ جب حالیہ کشیدگی کے بعد کے دنوں میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 34 فیصد کا اچھال آیا تو پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ پر یہ اضافی دباؤ کسی ملکی پالیسی کی ناکامی کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ اس جنگ کا نتیجہ تھا جسے شروع کرنے میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا اور یہ عالمی ری انشورنس مارکیٹ کے ذریعے منتقل ہوا جس پر پاکستان کا عملی طور پر کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔

خلیج پاکستان کو ایک ایسی چیز بھی فراہم کرتا ہے جو بلاشبہ تیل سے زیادہ ضروری ہے اور وہ ہے ترسیلاتِ زر۔ مالی سال 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر وطن بھیجے۔ یہ کارپوریشنز کی طرف سے سرمایہ کاری کا بہاؤ نہیں ہے۔ یہ لاکھوں پاکستانی مزدوروں، ڈرائیوروں، تعمیراتی کارکنوں اور سروس اسٹاف کی بھیجی گئی اجرتیں ہیں جن کا انحصار خلیجی معیشتوں کے مستحکم رہنے پر ہے اور جن کی رقم بھیجنے کی صلاحیت شپنگ لینز (بحری راستوں) کے کھلے رہنے پر منحصر ہے۔

جب ان راستوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو مال برداری اور انشورنس کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ جب یہ اخراجات بڑھتے ہیں تو انھیں آگے منتقل کر دیا جاتا ہے اور جب پاکستان میں اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو وہ ایک عام پاکستانی خاندان ہی ہوتا ہے جو اس دھچکے کو برداشت کرتا ہے۔

ان میں سے کسی بھی چیز کا محاسبہ اس طریقے میں نہیں کیا جاتا جس کے تحت بین الاقوامی مالیاتی ادارے فی الوقت پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی کی پوزیشن کا جائزہ لیتے ہیں یا بیل آؤٹ پروگراموں سے منسلک شرائط کو طے کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا موجودہ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام، جس کی منظوری 2024 میں دی گئی تھی اور مئی 2026 میں اس کا جائزہ لیا گیا، موسمیاتی جھٹکوں اور ملکی گورننس کی ناکامیوں کو خطرے کے عوامل کے طور پر مناسب طور پر تسلیم کرتا ہے۔ فنڈ نے پاکستان کو موسمیاتی لچک پیدا کرنے میں مدد کے لیے ایک ریزلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی بھی متعارف کرائی ہے لیکن جنگی خطرات کے پریمیم کے جھٹکے، جو کہ باقاعدہ، قابلِ پیمائش اور بار بار ہونے والے ہیں، اس فریم ورک سے بالکل باہر ہیں جو کہ بنیادی طریقہ کار کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔

موسمیاتی خطرہ اور ارضی سیاسی خطرہ مختلف ذرائع سے اور مختلف وقتوں میں اثر انداز ہوتے ہیں لیکن درآمدات اور ترسیلاتِ زر پر انحصار کرنے والی پاکستان جیسی معیشتوں پر ان کا معاشی اثر ساختی طور پر یکساں ہوتا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ سال ایک نسل میں پہلی بار بنیادی بجٹ سرپلس حاصل کیا لیکن اس کے باوجود اس کا کرنٹ اکاؤنٹ ایک ایسی جنگ کے جھٹکوں کا شکار ہوا جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو جنگی خطرات کے پریمیم کے اشاریوں (انڈیکس) کو جو پہلے ہی لائیڈز جوائنٹ وار کمیٹی کے سرکلرز اور ایڈیشنل وار رسک پریمیم ریٹ کی پبلیکیشنز کے ذریعے عوامی سطح پر ٹریک کیے جاتے ہیں کمزور معیشتوں کے لیے اپنے قرضوں کی پائیداری کے جائزے میں شامل کرنا چاہیے۔ جب پریمیم متعین کردہ حد سے تجاوز کر جائیں تو کسی نئے پروگرام کے مذاکرات کی ضرورت کے بغیر خودکار طور پر قرضوں کی سروسنگ میں ریلیف یا ہنگامی لیکویڈیٹی (فنڈز) تک رسائی فراہم ہونی چاہیے۔ موجودہ ریزلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی ایک قابلِ عمل نمونہ فراہم کرتی ہے۔ اس منطق کو ارضی سیاسی منتقلی کے خطرے تک بڑھانا نہ تو تکنیکی طور پر پیچیدہ ہے اور نہ ہی مالی طور پر ممنوع ہے۔

ری انشورنس مارکیٹ کا ایک بنیادی اصول ہے جسے غیر تصدیق شدہ خطرے کا نام دیا جاتا ہے یعنی ایسے خطرات جو آپ کے کھاتوں میں خاموشی سے موجود تو ہوں لیکن ان کا اعتراف کیا گیا ہو نہ ان کی قیمت طے کی گئی ہو۔ معاشی ماہرین اسے ایک مہلک بلائنڈ اسپاٹ قرار دیتے ہیں، کیونکہ جس بیماری کی تشخیص ہی نہ ہو اس کا علاج ناممکن ہے۔ پاکستان کے عالمی ساہوکاروں کے لیے جنگی پریمیم کے یہ جھٹکے ہو بہو یہی پوشیدہ خطرہ ہیں۔ یہ خطرہ بھی سچ ہے اور اس سے پہنچنے والا معاشی نقصان بھی حقیقت ہے۔ اب بس دیکھنا یہ ہے کہ عالمی ادارے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی جرات کب کرتے ہیں۔