ایران سے معاہدہ تقریباً طے پاچکا، آبنائے ہرمز کھولنا بھی شامل، ٹرمپ کا دعویٰ
- ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اب بھی کئی معاملات پر اختلافات موجود ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے، تاہم اس کی حتمی منظوری اور تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی شامل ہے، جو عالمی تیل ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن اور بحرین سمیت متعدد مشرق وسطیٰ کے ممالک کے رہنماؤں نے ہفتے کے روز ایک ٹیلیفونک رابطے میں اس معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی ان کی بات چیت مثبت رہی۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اب بھی کئی معاملات پر اختلافات موجود ہیں اور ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ ابتدائی مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران 14 نکاتی فریم ورک کو حتمی شکل دے رہا ہے، جبکہ مکمل معاہدے کی تفصیلات 30 سے 60 دن میں طے ہونے کی امید ہے۔
ادھر ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے یا جنگی کارروائی کی تو اسے پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد دیا، جو جنگ بندی کی عالمی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس دوران لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی حملے بھی جاری رہے، جبکہ حزب اللہ نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی حمایت جاری رکھنے کا یقین دلایا ہے۔